الرسالمشن
الرسالہ، جون ۲۰۱۳
اس کے نظریہ پر علمی تنقید کرنا میرے نزدیک فرض کے درجے میں ضروری ہو جاتا ہے۔ البتہ تنقیص یا عیب زنی کا طریقہ کسی حال میں جائز نہ ہوگا، مدلل علمی تنقید کی شرط ہر حال میں لازمی طور پر باقی رہے گی۔ 4۔ جس چیز کو آپ نے تعریف یا خود ستائی کے طور پر لیا ہے، اُس کا ذکر الرسالہ میں ’’خبر نامہ‘‘ کے تحت بطور تعریف نہیں ہوتا، بلکہ بطور تاریخ ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کی حیثیت ایک دعوتی مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہوتی ہے۔ اُن کو اگر ضبط تحریر میں نہ لایا جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے لامعلوم ہو جائیں گی، اس لیے ضروری ہے کہ ان کو تحریری شکل میں محفوظ کر دیا جائے۔ مشن سے متعلق لوگوں کے تاثرات وغیرہ، الرسالہ میں تاریخی ریکارڈ کے اسی اصول کے تحت درج کیے جاتے ہیں، اس کی حیثیت ایک مشن کے تاریخی ریکارڈ کی ہے، نہ کہ معروف معنوں میں شخصی تعریف کی۔
دوسری بات یہ کہ تعریف برائے تعریف بلا شبہ ہرگز اچھی چیز نہیں ہے، لیکن ایک ایسی چیز جو بظاہر ’’تعریف‘‘ معلوم ہوتی ہو، لیکن اس کے اندر سبق کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو اس کا ذکر ضرور کیا جائے گا، تا کہ عام لوگ اُس سبق سے محروم نہ رہیں۔ رسول اور اصحاب رسول اور دیگر اہل علم کی زندگی میں اس کی بہت سی مثالیں ’’تحدیث نعمت‘‘ کے عنوان کے تحت پائی جاتی ہیں۔
جہاں تک سفرنامے کا تعلق ہے، اس میں اس طرح کی باتیں اگر آتی ہیں تو وہ سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بیان ہوتا ہے، اور سفر نامے میں بہر حال وہی باتیں کہی جائیں گی جو سفر کے دوران پیش آئی ہیں، نہ کہ مفروضہ طور پر وہ باتیں جو سفر کے دوران سرے سے پیش ہی نہیں آئیں۔ علمی اور تاریخی ذوق نہ ہونے کی بنا پر لوگ، عام طور پر، اس طرح کی چیزوں کو شخصی تعریف سمجھ لیتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سفر نامے میں اس نوعیت کی چیزوں کا ذکر بیان واقعے کے طور پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی آدمی کی شخصی تعریف کے طور پر۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وہ چیز پائی جاتی ہو جس کو ڈیٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking) کہا جاتا ہے، یعنی اصل بات اور شخصیت کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا۔ علمی ذوق کا تقاضا ہے کہ چیزوں کو ہمیشہ ان کی میرٹ (merit) کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ کہ وہ کسی کی تعریف ہے یا تنقیص۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues