Al-Risala · June 2013 · page

الرسالمشن

الرسالہ، جون ۲۰۱۳

استعمال کیا ہے۔ یہ تزکیہ یا ذہنی اور روحانی ارتقا ہی وہ چیز ہے جو آخرت میں اجر کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ جو لوگ حصول دنیا میں اتنا زیادہ گم ہوں کہ وہ اپنا تزکیہ نہ کر سکیں، وہ گویا ’محق‘ کا کیس بن رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو آخرت کے اجر سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ واضح رہے کہ مذکورہ آیت کا یہ صرف ایک توسیعی پہلو ہے، وہ آیت کی مکمل تفسیر نہیں۔

2۔ ضعیف روایات کے بارے میں راقم الحروف کا مسلک وہی ہے جو عام طور پر علما کا مسلک ہے، یعنی ضعیف روایت کو اُس وقت قبول نہ کرنا جب کہ اس کا تعلق کسی حکم شرعی سے ہو، لیکن جب اس کا تعلق معرفت جیسے پہلو سے ہو تو اُس وقت ضعیف روایت کو قبول کر لیا جائے گا، بشرطیکہ وہ روایت قرآن وحدیث کی کسی معلوم نص سے ٹکراتی نہ ہو۔

حکم شرعی اور رمز معرفت کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص اگر یہ روایت بیان کرے کہ جو آدمی جھوٹ بولے، اس کی زبان کاٹ دو، تو اس روایت کی صحت کو نہایت شدت سے جانچا جائے گا، کیوں کہ اس کا تعلق ایک حکم شرعی سے ہے۔ اس کے برعکس، ایسی روایت جس کا تعلق حکم شرعی سے نہ ہو، بلکہ رموز معرفت سے ہو تو اس کو اس شرط کے ساتھ دعوت و تربیت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی معلوم نص سے نہ ٹکراتی ہو۔ اسی معاملے کی ایک مثال الرسالہ میں مذکور یہ روایت ہے: إن الدنيا خلقت لكم، وأنتم خلقتم للآخرة۔ یہ روایت سند کے لحاظ سے اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تربیتی نقطہ نظر سے، ایک درست بات ہے۔ کیوں کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بطور امتحان گاہ پیدا کیا ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس دنیا کو اصل نہ سمجھ لے، بلکہ یہاں کے حالات میں وہ فلاح آخرت کی تیاری کرے۔ 3۔ نظریہ کے حوالے سے تنقید کرنا اور شخصیت کا حوالہ نہ دینا بذات خود ایک درست اسلوب ہے اور الرسالہ میں اس اسلوب کی مثالیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن بعض حالات میں ضروری ہو جاتا ہے کہ شخصیت کا نام لے کر اس کے نظریے پر تنقید کی جائے، ورنہ تنقید کا مطلوب فائدہ حاصل نہ ہوگا، خاص طور پر اُس وقت جب کہ کسی آدمی کے ساتھ شخصیت پرستی کا پہلو شامل ہو گیا ہو۔ ایسی حالت میں شخصیت کا نام لے کر

‹ Previous page Next page › Contents of June 2013 All issues

Printed page