حضرت نوح کا پیغمبرانہ رول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
حضرت نوح کا پیغمبرانہ رول
حضرت نوح، حضرت آدم کے بعد آنے والے پیغمبر ہیں۔ وہ حضرت آدم کی دسویں پشت میں پیدا ہوئے۔ حضرت نوح کی زندگی میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا۔ وہ عظیم طوفان (Great Flood) اور کشتی (Ark) کا واقعہ تھا۔ یہ خصوصی واقعہ اللہ کے منصوبے کے تحت ظاہر ہوا۔ یہ واقعہ قبل از تاریخ دور (pre-historical period) میں پیش آیا۔ بظاہر اللہ کو یہ منظور تھا کہ حضرت نوح کا واقعہ بعد تاریخ دور(post-historic period) میں دریافت ہواور وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے نشانی (sign) بنے، جس سے وہ اپنی زندگی میں سبق حاصل کریں۔
حضرت نوح کا واقعہ مدوّن تاریخ (recorded history) میں موجود نہیں۔ حضرت نوح کے واقعے کو جاننے کے صرف دو ماخذ ہیں— قرآن اور بائبل۔ یہاں دونوں متعلق حوالے نقل کئے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 71 کا نام ’نوح‘ ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے ”ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دار کر دو، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آجائے۔ اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں تمھارے لیے ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اللہ تمھارے گناہوں سے درگزر کرے گا اور تم کو ایک متعین وقت تک باقی رکھے گا۔ بے شک جب اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ٹالا نہیں جاتا۔ کاش، تم اس کو جانتے۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کو شب و روز پکارا۔ مگر میری پکار نے ان کی دوری ہی میں اضافہ کیا۔ اور میں نے جب بھی ان کو بلایا کہ تو انھیں معاف کر دے تو انھوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹ لیے اور ضد پر اڑ گئے اور بڑا گھمنڈ کیا۔ پھر میں نے ان کو برملا پکارا۔ پھر میں نے ان کو کھلی تبلیغ کی اور ان کو چپکے سے سمجھایا۔ میں نے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو،
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues