حضرت نوح کا پیغمبرانہ رول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا، اور تمھارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمھارے لیے باغ پیدا کرے گا، اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا۔ تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے لیے عظمت کے متوقع نہیں ہو۔ حالاں کہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا۔ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔ اور ان میں چاند کو نور اور سوارج کو چراغ بنایا۔ اور اللہ نے تم کو زمین سے خاص اہتمام سے اگایا۔ پھر وہ تم کو زمین میں واپس لے جائے گا۔ اور پھر اس سے تم کو باہر لے آئے گا۔ اور اللہ نے تمھارے لیے زمین کو ہموار بنایا۔ تا کہ تم اس کے کھلے راستوں میں چلو۔ نوح نے کہا کہ اے میرے رب، انھوں نے میرا کہا نہ مانا اور ایسے آدمیوں کی پیروی کی جن کے مال اور اولاد نے ان کے گھاٹے ہی میں اضافہ کیا، اور انھوں نے بڑی تدبیریں کیں۔ اور انھوں نے کہا کہ تم اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ اور تم ہرگز نہ چھوڑ نا کو دوار سوا ع کو اور یغوث کو اور نَسرکو۔ اور انھوں نے بہت لوگوں کو بہکا دیا۔ اور اب تو ان گمراہوں کی گمراہی میں ہی اضافہ کر۔ اپنے گناہوں کے سبب سے وہ غرق کئے گئے، پھر وہ آگ میں داخل کر دئے گئے۔ پس انھوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔ اور نوح نے کہا کہ اے میرے رب، تو ان منکروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ اگر تو نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا، وہ بد کار اور سخت منکر ہی ہوگا۔ اے میرے رب، میری مغفرت فرما، اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرما اور جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہو، تو اس کی مغفرت فرما۔ اور سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کو معاف فرما دے اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔ ‘‘ (27-71:1)
قرآن کی سورہ ہود میں حضرت نوح اور ان کے مشن کے بارے میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے۔ قرآن کی ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے:
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ اب تمھاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا، سو اس کے جو ایمان لا چکا ہے۔ پس تم ان کاموں پر غمگین نہ ہو جو وہ کر رہے ہیں۔ اور ہمارے روبرو اور ہمارے حکم سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues