سیلف میڈمین
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
سیلف میڈمین
انوپم کھیر فلمی دنیا کی ایک ممتاز شخصیت ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے اندر کبر (arrogance) پایا جاتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (21 فروری 2013) میں ان کا ایک انٹرویو چھپا ہے۔ اس انٹرویو میں اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کے اندر کبر ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا۔ میرے اندر کبر کا مزاج اس لیے ہے کہ میں ایک سیلف میڈ مین ہوں اور میں اپنے آپ کو ایک محفوظ آدمی تصور کرتا ہوں: My arrogance comes from my being a self-made man and a secure person. (p. 8)
کہا جاتا ہے کہ سیلف میڈمین کا لفظ پہلی بار بنجامن فرینکلن نے اپنی آٹو بائیو گرافی میں استعمال کیا تھا۔ بنجامن فرینکلن 1706 میں امریکا کی ایک غریب فیملی میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ موم بتی بنایا کرتا تھا۔ بنجامن فرینکلن نے اعلی تعلیم حاصل کی۔ اس نے اپنی زندگی میں غیر معمولی جدوجہد کی، یہاں تک کہ 1790 میں جب وہ مرا تو وہ امریکا کی تاریخ میں امریکا کے فاؤنڈنگ فادر کی حیثیت سے لکھا گیا۔ بنجامن فرینکلن اپنی آخری عمر میں مختلف بیماریوں کا شکار ہو گیا۔ اپنی زندگی کے آخری تین سال اس نے اس طرح گزارے کہ وہ لاس اینجلیز میں اپنے گھر کے اندر رہتا تھا اور پبلک کے سامنے نہیں آتا تھا۔ سیلف میڈمین کا تصور تمام تر لوگوں کی نا واقفیت پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان گاڈمیڈمین (God-made man) ہوتا ہے، کوئی بھی شخص سیلف میڈمین نہیں ہوتا۔ اسی حقیقت کو یاد دلانے کے لیے اللہ تعالی انسان کے اوپر بڑھاپا طاری کرتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم جس کو لمبی عمر دیتے ہیں، اس کو اس کی ابتدائی تخلیق کی طرف لوٹا دیتے ہیں۔ کیا وہ سوچتے نہیں (36:68) ۔ ابتدائی تخلیق سے مراد بچپن کی حالت ہے۔ انسان بچپن کے زمانے میں عاجز ہوتا ہے اور بڑھاپے کے زمانے میں بھی عاجز - عجز کا یہ دو طرفہ تجربہ انسان کو کبر سے بچانے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ وہ سوچے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues