On Heroes, Hero-Worship (1841) by Thomas Carlyle
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
اسی طرح، سائنسی تہذیب کے تحت فطرت کا مطالعہ شروع کیا گیا، اس کے نتیجے میں فطرت کے بہت سے راز دریافت ہوئے۔ رموز فطرت کی یہ دریافت اپنی حقیقت کے اعتبار سے، آیات اللہ (signs of God) کے انکشاف کے ہم معنی تھی۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی صداقتوں کو وقت کے مسلمہ علمی معیار کی سطح پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب۔ مذہب اور جدید چیلنج جو عربی میں 'الإسلام يتحدى' کے نام سے چھپی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ایڈیشن گاڈ آرائز (God Arises) کے نام سے چھپ چکا ہے۔
اسی طرح مغربی تہذیب کے تحت دنیا میں اور کئی چیزیں وجود میں آئیں جو علمی طور پر مفید ہونے کے علاوہ، خود اسلام کے لیے بے حد مفید تھیں۔ مثلاً فکری آزادی، مذہبی تنگ نظری کا خاتمہ، جمہوریت کا عالمی فروغ، عالمی سیاحت (world tourism)، جس کا مطلب یہ تھا کہ مدعو خود داعی کے پاس بڑی تعداد میں پہنچنے لگا، وغیرہ۔ اسی طرح مغربی تہذیب کے تحت ایک دور جو وجود میں آیا جس کو دور مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا جیسی چیزیں وجود میں آئیں جو اسلام کی دعوت واشاعت کے اعتبار سے، بلاشبہہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مغربی تہذیب کے تحت موجودہ زمانے میں اس طرح کی بہت سی مفید چیزیں وجود میں آئی ہیں۔ چوں کہ مغربی قومیں اور دوسری قو میں بھی ان چیزوں کا اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں، اس لیے مسلمان اس کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے، مگر اس دنیا میں خود اللہ تعالی نے ہر عورت اور مرد کو آزادی عطا کی ہے۔ اس دنیا کے جو فطری وسائل (means) ہیں، اُن کو ہر ایک اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح تہذیبی وسائل کو بھی ہر گروہ اپنے اپنے حق میں استعمال کرے گا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں خدائی منصوبے کو سمجھیں اور حقیقت پسندانہ روش اختیار کریں۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ سورج صرف مسلم بستیوں میں چمکے اور غیر مسلم بستیوں میں اندھیرا چھایا رہے، اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ فطرت میں چھپی ہوئی نعمتوں کو مسلمان تو اپنے حق میں استعمال کریں اور غیر مسلم ان کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے محروم رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues