Al-Risala · July 2013 · page

تفرق فی الدین کا ظاہر ہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

تفرق فی الدین کا ظاہر ہ

کسی امت کے اندر بعد کے زمانے میں ایک ظاہر ہ وہ پیدا ہوتا ہے جس کو قرآن میں تفرق فی الدین (30:32) کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: وَاِنَّ هٰذِهِ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ ۝ فَتَقَطَّعُوا أَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (23:52-53) یعنی یہ تمھاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمھارا رب ہوں، تو تم مجھ سے ڈرو۔ پھر لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے، وہ اُسی پر نازاں ہے۔

قرآن کی یہ آیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس کا مطالعہ قرآن کی ایک اور آیت کی روشنی میں کیا جائے۔ وہ آیت یہ ہے: اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ (9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے احبار اور رہبان کو اپنا رب بنالیا۔ قرآن کی ان آیتوں کی روشنی میں مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو تفرق فی الدین کہا گیا ہے، وہ دراصل ایک تاریخی عمل ہے جو ہر امت میں اس کے بعد کے ادوار میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ واقعہ امت مسلمہ میں بھی ضرور پیش آئے گا، اس میں کسی امت کا کوئی استثنا نہیں۔ اصل یہ ہے کہ امت کے بعد کے زمانے میں مختلف مصلحین اٹھتے ہیں۔ امت کے یہ مصلحین اپنے قریبی حالات کے زیر اثر دین کے کسی تقاضے کو بیان کرتے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر اُن کے گرد دھیرے دھیرے ایک گروہ بن جاتا ہے۔ اس گروہ کے اندر اپنے مسلک کے حق میں رفتہ رفتہ تعصب کا ذہن پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے اکابر نے جو بات کہی تھی، وہی آخری سچائی ہے۔ تعصب کا یہ ذہن بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ہر گروہ ایک جامد گروہ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہر گروہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ وہی حق پر ہے اور دوسرے لوگ حق پر نہیں ہیں۔ یہی وہ تاریخی عمل ہے جس کی طرف قرآن کی مذکورہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page