مسلم تاریخ کی مثال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
اللہ تعالیٰ نے عروج اور غلبہ عطا کیا، لیکن ایک مدت کے بعد یہود میں بھی وہی ”فساد‘‘ پیدا ہوا جو ہر قوم میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کسی اور قوم کے ذریعے یہود کے ساتھ دفع کا وہی معاملہ کیا جس کو ہم نے ریڈیکل آپریشن (radical operation) کا نام دیا ہے۔
اس سلسلے میں قرآن میں دو متعین آپریشن کا حوالہ دیا گیا (8: 4-17)۔ پہلا واقعہ بابل (عراق) کے بادشاہ نبو کدنضر (Nebuchadnezzar) کا ہے۔ اس نے 586 قبل مسیح میں فلسطین پر حملہ کیا، جو اس وقت بنی اسرائیل کے زیر قبضہ تھا۔ نبو کدنضر نے بنی اسرائیل کی سیاسی طاقت کو توڑ دیا اور یروشلم میں ان کے عبادت خانہ (ہیکل سلیمانی) کو مکمل طور پر ڈھا دیا۔ اس کے بعد دوسرا واقعہ ہے جو رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے ذریعے پیش آیا۔ ٹائٹس نے 70 عیسوی میں یروشلم پر حملہ کرکے اس کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: تذکیر القرآن، صفحہ 762-760)۔ بنی اسرائیل کے خلاف یہ آپریشن بطور سزا (punishment) نہ تھا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ بطور انتباہ (warning) تھا۔ وہ اس لیے تھا کہ بنی اسرائیل متنبہ ہوں، اُن کا جمود ٹوٹے اور وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ ۚ وَإِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا (17:8)۔ لیکن بنی اسرائیل دوبارہ اصلاح قبول نہ کر سکے۔ وہ بدستور اپنی حالت پر قائم رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حاملِ کتاب الہیٰ ہونے کی حیثیت سے معزول کر دیا اور بنواسماعیل کو حامل کتاب الہیٰ کی حیثیت دے دی۔ تبدیلی کے اس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَاٰتَیْنٰھُمْ مُلْكًا عَظِيمًا (4:54)۔
مسلم تاریخ کی مثال
مسلم ملت دفع کے اس تاریخی قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ چناں چہ پچھلے چودہ سو سال میں یہ معاملہ بار بار پیش آیا ہے، یعنی ایک گروہ کو مقام اقتدار سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسرے گروہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues