Al-Risala · July 2013 · page

یہود کی تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

قرآن کی مذکورہ آیت میں ’دفع‘ (repel) کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی ہٹانا۔ لسان العرب میں ’دفع‘ کی تشریح ’الإزالة بقوة‘ (8/87) سے کی گئی ہے۔ یہ دفع دراصل تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک قانون ہے۔ مذکورہ واقعے میں اللہ تعالیٰ نے اسرائیلی گروہ کے ذریعے فلسطینی گروہ کو اقتدار سے ہٹایا تھا۔ اللہ انسانی تاریخ کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، وہ انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو منیج (manage) کر رہا ہے، وہ بار بار ایسے حالات پیدا کرتا ہے جب کہ ایک قوم دوسری قوم کو مقام اقتدار سے ہٹائے۔ اگر ایک قوم مسلسل طور پر مقام اقتدار پر قابض رہے تو اُس کے اندر جمود (stagnation) پیدا ہو جائے گا۔ یہ جمود مختلف صورتوں میں فساد (corruption) کا سبب بنے گا۔

دفع کے اس قانون کا تعلق سیکولر قوموں سے بھی ہے اور مذہبی قوموں سے بھی۔ اس معاملے کی ایک مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستان میں پہلے راجاؤں کی حکومت تھی۔ راجاؤں کے بعد یہاں مغل دور آیا، پھر مغل دور ختم ہوا اور برٹش دور آیا۔ اس کے بعد 1947 میں برٹش دور کا خاتمہ ہوا اور قومی حکومت (national government) کا دور آیا۔ یہ تمام تبدیلیاں دفع کے قانون کے تحت ہوئیں۔ ہر بار جب ایک گروہ کے اندر ’فساد‘ آ گیا تو اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم لائی گئی۔ گویا پرانے خون (old blood) کی جگہ نئے خون (new blood) کو کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس عمل کو ریڈیکل آپریشن (radical operation) کہا جا سکتا ہے۔

اوپر کی آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ-آیت ۔ آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالی کے جس ’فضل‘ کا ذکر ہے، اُس سے مراد یہی قانونِ دفع ہے جو مسلسل طور پر سیاسی اقتدار کی تنظیم کر رہا ہے۔ یہ تنظیم انسان کی اعلیٰ بہبود کے لیے ہے۔ اگر قانونِ دفع کی صورت میں انسانی اقتدار کی تنظیم نہ کی جائے تو دنیا میں سیاسی اجارہ داری (political monopoly) آجائے اور پھر انسانی تاریخ اپنی مطلوب منزل پر نہ پہنچ سکے گی۔

یہود کی تاریخ

دفع کے اس قانون کا نفاذ بعد کے زمانے میں خود یہود (بنی اسرائیل) پر کیا گیا۔ بنی اسرائیل کو

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page