Al-Risala · July 2013 · page

مسلم تاریخ کی مثال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

بنو امیہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا کر ان کی جگہ بنو عباس کو لایا گیا۔ بنو عباس کے دور میں کئی بڑے بڑے کام انجام پائے۔ احادیث کو جمع کرنا، علوم اسلامی کی تدوین، اسلام کی اشاعت، وغیرہ۔ اس کے علاوہ انھوں نے اُس وقت کے سیکولر علوم کو حاصل کیا اور ان کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر عالمی فکر پیدا ہوا۔ بنو عباس کے دبدبے کے تحت حفاظتِ دین کا کام کامیابی کے ساتھ جاری رہا۔ واضح ہو کہ دورِ قدیم میں حفاظتِ دین کے لیے سیاسی دبدبہ ضروری تھا، مگر اب پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور کے بعد سیاسی دبدبے کے بغیر خدا کا دین کامل طور پر محفوظ ہے۔ بنو عباس کی سلطنت تقریباً 500 سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد فطری طور پر بنو عباس میں جمود کا دور آ گیا ۔ وہ ترقی کے سفر کو مزید جاری رکھنے کے قابل نہ رہے۔ چناں چہ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں کے ذریعے ایک آپریشن کیا گیا اور اس طرح عباسی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد تاریخی قانون کے مطابق، دوسری قوموں کو موقع دیا گیا۔ عباسی دور ہی میں ایک مسلم گروہ اٹھا جس نے اندلس (اسپین) میں اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ اس حکومت کو سیکولر مورخین مورش سلطنت (Moorish Empire) کا نام دیتے ہیں۔ مورش سلطنت کو موافق حالات ملے، چناں چہ انھوں نے علم کی ترقی میں مزید بہت زیادہ اضافہ کیا۔ اس دور کے ترقیاتی نمونوں کو استنبول (ترکی) کے میوزیم (The Istanbul Museum of the History of Science and Technology in Islam) میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مگر بعد کے دور میں اندلس کی مسلم سلطنت میں بگاڑ آگیا۔ اس کے حکمراں عیش و عشرت میں پڑ گئے۔ آخر کار 700 سال سے زیادہ مدت کے بعد اُن پر دفع کا قانون نافذ ہوا اور اسپین کے مسیحی حکمراں نے لڑ کر اِن کا خاتمہ کر دیا۔

اسی دور میں مغل حکمراں ہندوستان میں داخل ہوئے اور یہاں ایک طاقت ور مسلم سلطنت قائم کر دی ۔ مغل سلطنت کے زیر سایہ ہندوستان میں کئی کام انجام پائے۔ مغل حکمرانوں کو دعوت و تبلیغ سے کوئی دلچسپی نہ تھی، لیکن اُن کے دبدبے کے تحت صوفیوں کو یہ موقع ملا کہ وہ اس ملک میں اسلام کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page