Al-Risala · July 2013 · page

مسلم تاریخ کی مثال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

اشاعت بڑے پیمانے پر کر سکیں۔ لیکن بعد کے دور میں مغل حکمرا نوں میں بھی وہی بگاڑ آیا جو ہر قوم میں آتا ہے۔ چناں چہ 600 سال کے بعد ہندوستان میں برٹش قوم ابھری اور اس نے 1857 میں مغل سلطنت کے خاتمہ کر دیا۔

اس سلسلے میں آخری نام عثمانی خلافت کا ہے۔ اس نے یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبے میں اپنی سلطنت قائم کی۔ اس نے لمبے عرصے تک اسلام کا دبدبہ قائم رکھا۔ اس طرح یہ ہوا کہ پرنٹنگ پریس اور دوسرے موافق اسباب کے ظہور سے پہلے کے دور میں وہ دین اسلام کی محافظ بنی رہی۔ آخر کار عثمانی خلافت میں بھی بڑے پیمانے پر جمود پیدا ہوا، وہ مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ 600 سال کے بعد مغربی قوموں کا ظہور ہوا اور اس طرح عثمانی خلافت کا دور ختم ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ کمال اتا ترک (وفات: 1938) نے عثمانی خلافت کا خاتمہ کر دیا، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ کمال اتا ترک نے 1924 میں ترک خلافت کے خاتمے کا صرف اعلان کیا تھا، اُس کا خاتمہ اس سے بہت پہلے ہو چکا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ماہ نامہ الرسالہ، نومبر 2012)۔ جمہوریت کا رول دفع کا قانون پچھلے زمانے میں انقلابی عمل (ریڈیکل آپریشن) کے ذریعے انجام پاتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں اس طریقے کو بدل دیا گیا۔ اسی بدلے ہوئے طریقے کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جمہوریت دراصل دفع کا قانون کا باقاعدہ انسٹی ٹیوشنلائزیشن (institutionalization) ہے۔ فرانسیسی انقلاب (French Revolution) جمہوری دور کا آغاز ہے جس نے 1792 میں بادشاہی نظام کا خاتمہ کیا۔ اس کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا دور آیا، جس کے نتیجے میں یہ ممکن ہو گیا کہ الیکشن کے ذریعے پرامن طور پر حکومت کی تبدیلی ممکن ہوگئی۔ اس طرح تاریخ میں ریڈیکل تبدیلی کے بجائے، پرامن تبدیلی (peaceful change) کا دور آگیا۔

موجودہ زمانے کے مسلمان اس الہی منصوبے کو سمجھ نہ سکے۔ وہ خود ساختہ ذہن کے تحت یہ کر رہے ہیں کہ کہیں وہ نا کام طور پر دوسری قوموں سے لڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ منفی روش

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page