Al-Risala · July 2013 · page

استبدال قوم کا قانون

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

دیا گیا تھا: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) یعنی تم ان سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ قرآن کے مخصوص اسلوب میں یہی بات ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ساری طاقت استعمال کر کے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کرو جس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ دنیا میں جنگ کی حالت نہ رہے اور امن کی حالت قائم ہو جائے۔ قرآن کی یہ آیت ایک دور کو ختم کرنے اور دوسرے دور کا آغاز کرنے کے معنی میں ہے، نہ کہ کسی وقتی کارروائی کے معنی میں۔

استبدال قوم کا قانون

قرآن میں ایک خدائی قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ (47:38) یعنی اگر تم پھر جاؤ تو اللہ تمھاری جگہ دوسری قوم کو لے کر آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

قرآن کی اس آیت میں جس استبدال (replacement) کا ذکر ہے، اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو سے اس کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر عمومی طور پر زوال اور فساد آجائے تو اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہوگا کہ یہ صورت حال بدلے اور ایسے اہل ایمان پیدا ہوں جو صحیح معنوں میں دین خداوندی پر قائم ہوں۔

لیکن اس استبدال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بگڑی ہوئی امت اگر ایک بلین کی تعداد میں ہے تو اس کی جگہ ایک بلین ہی کی تعداد میں دوسری صالح امت پیدا کر دی جائے۔ یہ استبدال ہمیشہ افراد کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ مجموعی طور پر ایک پوری امت کے اعتبار سے۔

اس استبدال کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا، یعنی اظہار دین کے اجزا کو دریافت کرنے میں اگر امت مسلمہ نا کام ہو جائے تو اللہ تعالی سیکولر طبقے میں سے ایسے مؤیدین کو اٹھائے گا جو اس کام کو انجام دیں اور معرفت اور شکر اور دعوت کے اعلی درجات تک پہنچنے کو ممکن بنا دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page