چار پہلو
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
دوسرے الفاظ میں، دو شمشیر کو ختم کر کے عملاً دورِ امن کو لانا کہا جا سکتا ہے۔ بین اقوامی تعلقات میں یہ تبدیلی عین اسلام کے حق میں ہے۔ یہ واقعہ اُس تاریخی عمل (historical process) کا نقطہ انتہا ہے جس کا آغاز ساتویں صدی کے ربع اول میں معاہدہ حدیبیہ کے ذریعے کیا گیا تھا۔ قدیم زمانے میں جنگ اور امن کا کوئی متفقہ اصول نہ تھا۔ جو لوگ سیاسی اقتدار پر قابض ہوتے تھے، وہی جنگ اور امن کا فیصلہ کرتے تھے۔ قوموں کے درمیان معاہداتی تنظیم کے مذکورہ طریقے نے اس صورتِ حال کو ختم کر دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ باہمی مسائل کا فیصلہ بین اقوامی گفت وشنید (international negotiation) کے ذریعے طے کیا جائے اور باہمی اختلافات کے باوجود عالمی امن کو برقرار رکھا جائے ۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ ہر حال میں تعمیری سرگرمیاں کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہیں۔
جو لوگ چیزوں کو معیار کے پیمانہ (ideal yardstick) سے ناپتے ہیں، وہ ان اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ پہلے وہ جمعیتِ اقوام کے ناقد تھے، اب وہ اقوامِ متحدہ کے ناقد بنے ہوئے ہیں، مگر یہ صرف بے دانشی کی بات ہے۔ یہ لوگ معیاری امن (ideal peace) کی باتیں کرتے ہیں، مگر اس دنیا میں معیاری امن کا حصول سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس دنیا میں کوئی چیز صرف خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت ہی حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے تحت اس دنیا میں صرف قابلِ عمل امن (workable peace) کا حصول ممکن ہے، اور بلاشبہ اقوامِ متحدہ نے قابلِ عمل امن کے حصول کو ممکن بنا دیا ہے۔ خدا کے منصوبے کے مطابق ، اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ اس آزادی کو منسوخ کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز معیاری درجے میں نہیں، بلکہ صرف قابلِ عمل (workable) درجے میں حاصل ہوتی ہے، خواہ وہ امن اور عدل ہو یا اور کوئی چیز۔
قرآن کی سورہ الانفال میں رسول اور اصحابِ رسول کو ایک حکم ان الفاظ میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues