Al-Risala · July 2013 · page

النساء کا ایک آیت ۸۶ کا تفسیر مہر مفس

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳

سوال و جواب سوال 2013ء کے ماہنامہ دارالعلوم کے صفر کے اسٹاٹسٹکس ایک طرف، عرض ہے کہ آپ نے ماہ نامہ الرسالہ مارچ 2013 کے شمارے کے ٹائٹل پر ایک عبارت تحریر فرمائی ہے، جو اس طرح ہے: "چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان۔ " میں اس عبارت کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ آپ نے بڑوں کو عزت دینے کو منافقت سے تعبیر کیا ہے، جب کہ احادیث سے ثابت ہے کہ بڑوں کو عزت دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ کی میری ہے، یا یہ کہ مدعی یہ کہہ رہا ہے کہ جس کی ورث میں یہ از راه کرم، اس عبارت کی وضاحت فرمائیں۔ (فیصل احمد، کشمیر)

جواب

الرسائل کے ٹائٹل پر چھپنے والا قانونِ موجودہ زمانہ کے تناسخ الرسالہ کے ٹائٹل پر چھپنے والا یہ قول موجودہ زمانے کی نسبت سے ہے۔ اس عبارت کو اگر آپ اس اضافے کے ساتھ پڑھیں کہ موجودہ زمانے میں یہ ایک عام بات ہے کہ لوگ چھوٹے (کم حیثیت کے ) لوگوں کو عزت نہیں دیتے اور وہ بڑوں ( زیادہ حیثیت والوں ) کو عزت دیتے ہیں، تو اس قول کا مطلب بالکل واضح ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اخلاقیات کے مطابق ، چھوٹوں کو عزت دینا اخلاص کی پہچان ہے اور بڑوں کو عزت دینا منافقت کی پہچان۔

الرسالہ کے اس قول میں ” چھوٹوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو معمولی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے اور ”بڑوں “ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اعلی درجے سے تعلق رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ مذکورہ حدیث ( لیس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يوقر كبيرنا ) سے الرسالہ کے اس قول کا کوئی تعلق نہیں۔ مذکورہ حدیثِ رسول دوسرے سیاق میں آئی ہے اور الرسالہ کا یہ قول دوسرے سیاق میں۔ دونوں کا سیاق (context) بالکل الگ ہے۔

سوال

مل تفس احسن البیان (حافظ صلاح الدین یوسف) بڑا کار آمد س ڈالمراہ کا یہ رہ دردست )

النساء کا ایک آیت ۸۶ کا تفسیر مہر مفس

میں تفسیر احسن البیان (حافظ صلاح الدین یوسف) پڑھ رہا تھا۔ سورہ النساء کی آیت 86 کی تفسیر میں مفسر لکھتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ یہ حکم مسلمانوں کے لیے ہے، یعنی ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو سلام کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues

Printed page