النساء کا ایک آیت ۸۶ کا تفسیر مہر مفس
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۳
لیکن اہل ذمہ یعنی یہود و نصاریٰ کو سلام کرنا ہو تو اُن کو سلام کرنے میں پہل نہ کی جائے ۔ دوسرے، اضافہ نہ کیا جائے بلکہ ”وعلیکم“ کے ساتھ جواب دیا جائے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کا اطلاق آج ہمارے پڑوسی مذہب کے ہندو بھائیوں پر بھی ہوگا ۔ (غلام صابر، غازی پور، یوپی) جواب مذکورہ تفسیر میں جو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ مسئلہ درست نہیں، کیوں کہ اس میں بخاری کی مذکورہ روایت کو مطلق معنی میں لے لیا گیا ہے۔ اس سلسلہ کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مطلق معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ فقہا کی اصطلاح میں ’’بیان جواز‘‘ کے معنی میں ہے۔
قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ اہل ایمان کو ہمیشہ زیادہ بہتر انداز میں جواب دینا چاہیے۔ اس معاملے میں یہود یا کسی دوسرے کا کوئی استثنا نہیں ہے۔ اعلیٰ اخلاق ایک عظیم سنت رسول ہے۔ وہ ہر حال میں اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ اس کے علاوہ ، غیرمسلموں کے سلسلہ میں ایک خصوصی اصول وہ ہے جس کو قرآن میں تالیف قلب (9:60) کہا گیا ہے۔ تالیف قلب کے اصول کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان اُس طرزِ سلوک کو اختیار کریں جس کا حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ صحیح البخاری کی مذکورہ روایت کی تشریح کے تحت صاحب فتح الباری نے لکھا ہے: وذہب جماعة من السلف إلى أنه يجوز أن یقال في الرد عليهم ”عليكم السلام“ كما يرد على المسلم - واحتج بعضهم بقوله تعالى: فاصفح عنهم وقل سلام (43:89) یعنی علما ء سلف کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ یہ جائز ہے کہ غیرمسلموں کے سلام کے جواب میں اِسی طرح وعلیکم السلام کہا جائے جس طرح ایک مسلم کے جواب میں وعلیکم السلام کہا جاتا ہے۔ اُن میں سے بعض نے اس کی دلیل یہ دی ہے کہ خود قرآن میں کہا گیا ہے: ”پس اُن سے درگزر کرو اور کہو کہ سلام ہے تم کو‘۔ (47/11)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2013 All issues