Al-Risala · August 2013 · page

سورہ العصر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

اور اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کو بھی اِس کی تلقین کریں۔

مزید غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورہ العصر کا پیغام یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو امکانی طور پر ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے پیدا کیا۔ لیکن تاریخ کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ انسان نے اپنے حق میں اِس امکان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اِس کے برعکس، اِس نے یہ کیا کہ وہ گھاٹے اور محرومی کا کیس بن گیا۔ یہ واقعہ اللہ کی تقدیر کی بنا پر نہیں ہوا، بلکہ اِس لیے ہوا کہ انسان نے اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہیں سمجھا۔ اُس نے بطور خود اپنی زندگی کا نقشہ بنایا۔ اِس خود ساختہ رویے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان محرومی کا شکار ہو کر رہ گیا۔

انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں متعین کرے ۔ اللہ جو اِس کا خالق اور مالک ہے، اُسی کو وہ اپنا سب سے بڑا کنسرن (sole concern) بنائے۔ وہ محبت اور خوف کے جذبات کو اللہ کے لیے خالص کر دے۔ وہ صرف اللہ کا عبادت گزار بنے۔ اخلاقی معاملے میں وہ اللہ کے مقرر کیے ہوئے اصول کی پابندی کرے۔ وہ اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی کو اللہ کے بتائے ہوئے نقشے کے مطابق تشکیل دے۔ وہ دنیا کو دار الامتحان سمجھے۔ وہ آخرت کی کامیابی کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ آخری حد تک جنت کا حریص ہو، وہ جہنم سے آخری حد تک ڈرنے والا بن جائے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بیش تر لوگ اللہ کا مطلوب انسان بننے میں ناکام رہے۔ اُن کو یہ کرنا تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوں تو وہ اللہ کے مطلوب انسان بن چکے ہوں، تاکہ موت کے بعد جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو تو اللہ اُنھیں رد نہ کرے، بلکہ وہ اُنھیں قبول کرلے۔ مگر بیش تر انسانوں کا کیس اِس معاملے میں، خسران کا کیس بن گیا۔

قرآن کی یہ سورہ جو ساتویں صدی عیسوی کے آغاز میں اتری، وہ گویا ایک انتباہ (warning) ہے۔ وہ انسان کو متنبہ کر رہی ہے کہ وہ اِس غلطی سے بچے ۔ وہ اُن خوش قسمت انسانوں میں سے بنے جن کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page