Al-Risala · August 2013 · page

حبط اعمال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

حبط اعمال

قرآن کی سورہ الحجرات میں آداب کلام کے ذیل میں کچھ ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں اس کی تین آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اے ایمان والو، تم اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو، تم اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور اُس کو اس طرح آواز دے کر نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال حبط ہوجائیں اور تم کو اس کا شعور بھی نہ ہو۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے“۔ (3-49:1)

قرآن کی ان آیتوں میں پیغمبر کی مجلس کے حوالے سے ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ اس اصول کا تعلق پیغمبر کے زمانے میں پیغمبر کی مجلس سے بھی تھا اور بعد کے زمانے میں دوسری مجالس سے بھی ہے۔ پیغمبر کے زمانے میں کسی مجلس میں جو بات ہوتی تھی، وہ کیا تھی، وہ بلا شبہ دین اور دعوت کی بات ہوتی تھی۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ ہدایت دینی مجلس کی نسبت سے ہے، نہ کہ محض ذات رسول کی نسبت سے۔ ایسے موقع پر یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ تو سنجیدہ انداز میں اور متقیانہ انداز میں بولتے ہیں۔ یہی مطلوب انداز ہے۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ غیر سنجیدہ انداز میں محض اپنے ذاتی ذہن کے تحت زور زور سے بولنے لگتے ہیں۔ یہ انداز ایک غیر مطلوب انداز ہے اور اسی غیر متقیانہ روش سے قرآن کی اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔

دینی موضوع پر کلام کے وقت صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی شدت کے ساتھ قرآن وسنت کی پابندی کرتے ہوئے بولے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ محض اپنے ذاتی خیال کو لے کر زور زور سے بولنے لگے۔ قرآن کی اس آیت میں متقیانہ کلام کی ہدایت ہے اور غیر متقیانہ کلام کی ممانعت۔ متقیانہ کلام کو دوسرے الفاظ میں، سنجیدہ کلام (talk serious) اور غیر متقیانہ کلام کو غیر سنجیدہ کلام

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page