Al-Risala · August 2013 · page

حبط اعمال

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

(non-serious talk) کہا جاسکتا ہے۔ متقیانہ کلام وہ ہے جو اُس احساسِ ذمے داری کے ساتھ نکلے جو حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے ایک قول میں اس طرح بیان کیا تھا: أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله ما لا أعلم (القرطبي: 19/221) یعنی کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھ کو پناہ دے گی، اگر میں اللہ کی کتاب کے بارے میں ایسی بات بولوں جس کا مجھے علم نہیں (جس کی تائید میں میرے پاس کتاب اللہ کا کوئی حوالہ نہیں۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں اظہارِ خیال کا ذریعہ صرف بالمشافہ گفتگو نہیں ہے، بلکہ چھپی ہوئی تحریروں کی شکل میں اظہارِ خیال عام ہو گیا ہے۔ ایسی حالت میں، وسیع تر انطباق (extended application) کے اعتبار سے، تحریری اظہارِ خیال بھی اس میں شامل ہو گا۔ اس معاملے میں متقیانہ تحریر وہ ہے جو اللہ کے سامنے جواب دہی (accountability) کے احساس کے تحت تیار کی گئی۔ اس کے برعکس، جو لوگ ایسا کریں کہ جو کچھ اُن کے ذہن میں ہے، اس کو لکھ کر چھاپنا شروع کر دیں اور اس کی تحقیق نہ کریں کہ وہ کتاب وسنت کے مطابق ہے یا نہیں، ایسے لوگوں کے لیے شدید طور پر یہ خطرہ ہے کہ ان کی کوششیں حبطِ اعمال کا شکار ہو جائیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ غیر متقیانہ کلام یا غیر ذمے دارانہ کلام کرنے والوں کے لیے حبطِ اعمال کا اندیشہ ہے۔ اس حبطِ اعمال کی سنگینی یہ ہے کہ وہ غیر شعوری طور پر پیش آتا ہے، یعنی آدمی بطورِ خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ حق و صداقت کی بات بول رہا ہے، لیکن نتیجہ (result) کے اعتبار سے، اس کی تقریر و تحریر سر تا سر عبث قرار پائے گی اور آدمی کو اس کا شعور بھی نہ ہوگا۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ معاملہ کنڈیشننگ (conditioning) کا معاملہ ہے۔ غلط افکار کے درمیان عرصے تک جینے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن کی تشکیل ایک خاص انداز سے ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ سوچتا ہوں، وہ حق ہے، حالاں کہ وہ حق نہیں ہوتا، بلکہ صرف اس کے غلط مائنڈ سیٹ (mindset) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ کرکےاپنے آپ کو صحیح الفکر انسان (right-thinker) بنائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page