Al-Risala · August 2013 · page

فہمِ قرآن ایک مطالعہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

حدیث کا چرچا بڑھ گیا۔ عباسی دور میں فقہ کا چرچا شروع ہوا۔ اس کے بعد اسی دور میں مسلم تاریخیں لکھی گئیں اور تاریخ کا چرچا ہونے لگا۔ اس پورے زمانے میں باتیں یا تو حافظہ میں ہوتی تھیں یا ہاتھ سے لکھے ہوئے اوراق میں۔ چناں چہ فطری طور پر قرآن کا دائرہ اشاعت عملاً محدود رہا۔ پندرھویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس وجود میں آیا۔ اسی کے ساتھ کاغذ بھی وسیع پیمانے پر بننے لگا۔ سولھویں صدی عیسوی میں یہ حال ہوا کہ یورپ میں کتابوں کی چھپائی عام ہوگئی۔ کتابوں کے مطبوعہ نسخے عمومی طور پر دستیاب ہونے لگے۔ مگر مسلم دنیا ابھی تک پرنٹنگ پریس سے نا آشنا تھی۔ اورنگ زیب عالم گیر سترھویں صدی کا مسلم بادشاہ ہے۔ مگر اپنے زمانے میں وہ صرف یہ جانتا تھا کہ لمبی مدت کے دوران قرآن کو اپنے ہاتھ سے لکھ کر اس کا ایک نسخہ تیار کیا جائے۔ وہ پرنٹنگ ٹکنالوجی کی بابت کچھ نہیں جانتا تھا۔

مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس اٹھارھویں صدی کے آخر میں پہنچا۔ نپولین 1798 میں مصر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ساتھ فرانس سے پرنٹنگ پریس لایا تھا۔ انیسویں صدی کے آغازمیں کرسچن مشنری کے لوگ انڈیا میں پرنٹنگ پریس لے آئے۔ اس طرح دھیرے دھیرے پرنٹنگ پریس پوری مسلم دنیا میں پھیل گیا۔ بیسویں صدی میں یہ حال ہوا کہ قرآن کے چھپے ہوئے نسخے ہر جگہ پائے جانے لگے۔ گھر، مسجد، مدرسہ، لائبریری، کوئی جگہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں سے خالی نہ رہی۔ مگر اب بھی جو حال ہوا، وہ صرف یہ کہ قرآن مسلمانوں کے لیے کتاب تلاوت بنارہا، وہ عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے عملاً نذیر عالم نہ بن سکا۔ ایسا کیوں ہوا، کیوں ایسا ہوا کہ عالمی ابلاغ کے مواقع پیدا ہونے کے باوجود قرآن کی عالمی اشاعت نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کام مسلمانوں کو انجام دینا تھا، جو کہ قرآن کے حامل ہیں، مگر اس زمانے کے مسلمان دعوت کے شعور سے مکمل طور پر خالی تھے۔ بیسویں صدی کے مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کا شکار ہو گئے، وہ مدعو قوموں کو اپنا حریف سمجھنے لگے۔ اس قسم کی منفی سوچ کے ساتھ دعوت وتبلیغ جیسا مثبت کام نہیں کیا جا سکتا۔ اصل یہ ہے کہ جس زمانے میں جدید کمیونی کیشن کا دور آیا، اُسی زمانے میں ایک اور چیز مسلم دنیا میں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page