فہمِ قرآن ایک مطالعہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳، صفحہ ۱۲
داخل ہوگئی، یعنی وہ چیز جس کو مغربی نو آبادیات (western colonialism) کہا جاتا ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور نو آبادیات دونوں ایک ساتھ مسلم دنیا میں داخل ہوئے:
The age of communication coincided with the age of colonialism. مغرب کی نو آبادیاتی قو میں جدید طاقتوں سے مسلح تھیں۔ چناں چہ فطری طور پر یہ ہوا کہ وہ عمومی طور پر اُس زمانے کے مسلم ممالک پر غالب آ گئیں۔ انھوں نے مسلم اداروں اور مسلم حکومتوں کو زیر کر لیا۔ اس کے ردعمل کے طور پر یہ ہوا کہ تمام دنیا کے مسلمان مغربی قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے۔ اُس زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہنماؤں کا ذہن یہ بن گیا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ مغربی طاقتوں سے لڑ کر اُن کو مسلم دنیا سے نکالو۔ اس سیاسی جہاد میں تقریباً تمام لوگ شریک ہو گئے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اُس میں فکری اعتبار سے شریک تھے اور کچھ لوگ مسلح ٹکراؤ میں مشغول تھے۔ یہ پورا دور مسلمانوں کے لیے منفی ردعمل کا دور تھا۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں وہ یہ بھول گئے کہ مغربی قو میں اُن کے لیے دشمن نہیں، بلکہ مدعو ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ قرآن اور ترجمہ قرآن کے مطبوعہ نسخوں کو نہ صرف مغربی قوموں، بلکہ تمام دنیا کی قوموں تک پہنچا دیا جائے، تاکہ قرآن اپنے مقصد نزول کے اعتبار سے نذیر عالم بن جائے، یعنی وہ پیشین گوئی پوری ہو جس کو حدیث میں عالمی ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر دوسری قوموں کے لیے منفی ردعمل کا یہ مزاج انیسویں صدی کے نصف ثانی میں شروع ہوا اور اکیسویں صدی کے نصف اول تک منفی ردعمل کی یہ نفسیات بدستور جاری ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے دوسری قوموں کو اپنا دشمن قرار دے کر جو لڑائی جاری کی، وہ ہر قسم کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود مکمل طور پر بے نتیجہ رہی۔ کوششوں کا یہ منفی انجام کافی تھا کہ مسلمان اس معاملے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کریں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کھلے ہوئے نا کام تجربے کے باوجود آج بھی مسلمانوں کے اندر اس معاملے میں نظر ثانی کا عمل جاری نہ ہوسکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues