Al-Risala · January 2013 · page

پیغمبرانہ یادگاریں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ کشتی زمین سے اوپر اٹھ کر پہاڑ کی بلندی تک پہنچ گئی۔ کشتی نوح کے بارے میں جو بات قرآن میں کہی گئی ہے، اس کی مزید تفصیل دابہ والی آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت میں یہ الفاظ ہیں: تکلمهم أن الناس كانوا بآياتنا لا يوقنون (27:82)۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ دابہ بتائے گا کہ لوگ اللہ کی نشانیوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔ اس آیت میں آیات (نشانیوں) سے مراد پچھلے ادوار میں اللہ کے پیغمبروں کا ظہور ہے۔ اللہ کا ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایک نشانی ہوتا تھا، مگر قدیم زمانے میں پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا انکار کیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: ”جو رسول بھی اُن کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اُڑاتے رہے۔ “(36:30)

پیغمبروں کا آیت الہی ہونا اُن کے مخاطبین کے لیے مجرد ایک نظری شہادت (theoretical evidence) کے ہم معنی ہوتا تھا، اسی لیے وہ ان کی تکذیب کرتے رہے۔ اللہ تعالی نے چاہا کہ پیغمبر اور پیغمبری کے حق میں ایک مادی شہادت (material evidence) قائم ہو، اور کشتی نوح بمعنی دابہ غالباً اسی قسم کی ایک مادی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔ موجودہ زمانے میں کشتی نوح ظاہر ہو کر بزبانِ حال یہ کہہ رہی ہے کہ اے انسانو، تم نے پیغمبر نوح اور ان کے خدائی مشن کا انکار کیا۔ تم نے اپنی تاریخ سے اُن کو اس طرح حذف کیا جیسے کہ کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔ اب عیانًا وہ تمھارے سامنے اس طرح ظاہر ہو چکی ہے کہ اس کا انکار تمھارے لیے ممکن نہیں۔ نظری شہادت کا معاملہ اختیاری اعتراف کی حیثیت رکھتا تھا، مگر مادی شہادت کا معاملہ جبری اعتراف کا درجہ رکھتا ہے۔ اب انسان کے لیے اس بات کا کوئی منطقی جواز باقی نہیں رہا کہ وہ پیغمبر اور پیغمبرانہ مشن کے معاملے میں انکار کا طریقہ اختیار کرے۔

موجودہ زمانے میں کشتی نوح کا ظہور دین خداوندی کے لیے ایک عظیم تاریخی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ یہ واقعہ تمام تر مسیحی علما اور یہودی علما کی تحقیقات کے ذریعے انسانی علم میں آیا۔ کیوں کہ قرآن کے علاوہ، کشتی نوح کا ذکر

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page