پیغمبرانہ یادگاریں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
اللہ کے منصوبے کے مطابق ،مقصد تخلیق کیا ہے۔ سیارہ ارض پر انسان کا قیام ایک مقرر مدت تک ہے (71:4) یعنی ایک مقرر وقت (apppointed time) تک دنیا میں حالت امتحان میں رہنا اور اس کے بعد آخرت میں اللہ کے سامنے حساب کے لئے پیش کر دیا جانا۔ یہی زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت نوح نے اور دوسرے پیغمبروں نے انسان کو بتایا، لیکن انسان نے اس پیغمبرانہ انتباہ (warning) کو اپنے ریکارڈ سے خارج کر دیا۔
دابہ کے ظہور کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی، لیکن دونوں جگہ اس کا ذکر مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر ہے، اس لیے دابہ کے بارے میں شارحین اور مفسرین کی مختلف رائیں ہیں۔ دابہ کے بارے میں مزید مطالعے کے بعد اب میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں، اس کو میں نے اس مضمون میں درج کر دیا ہے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق ،یہی رائے مجھ کو زیادہ درست معلوم ہوتی ہے: هذا ما عندي، والعلم عند الله۔
اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ،کئی بار ایسا ہوا کہ کسی پیغمبر کی قوم پر انکار کے نتیجے میں عذاب آیا۔ مگر دوسرے تمام پیغمبروں کے معاملے میں جو صورت اختیار کی گئی، وہ یہ تھی کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ ہوا تو پیغمبر کے ماننے والوں سے کہا گیا کہ تم بستی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جب وہ بستی کو چھوڑ کر دور کے علاقہ میں گئے تو مقامی طور پر شدید طوفان یا زلزلے کے ذریعے منکر قوم کو تباہ کر دیا گیا، مگر حضرت نوح کی قوم کے معاملے میں ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا گیا۔ حضرت نوح نے لمبی مدت تک اپنی قوم کو خدا کا پیغام پہنچایا۔ کچھ لوگ آپ پر ایمان لائے اور زیادہ تر لوگ منکر بن گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو حکم دیا کہ تم ایک بڑی کشتی بناؤ۔ اس میں اہل ایمان کو اور اسی کے ساتھ مویشیوں کے جوڑوں کو سوار کرو۔ جب یہ سب ہو گیا اور لوگ کشتی میں سوار ہو چکے تو بہت بڑا سیلاب آیا۔ پانی زمین سے بھی نکلا اور آسمان سے بھی برسا۔ پانی کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ اس کی سطح پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ گئی۔
اسی مختلف انداز کی بنا پر یہ ہوا کہ حضرت نوح کی کشتی بعد کی انسانی نسلوں کے لیے محفوظ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues