غیر قرآنی ذہن
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
ہر آدمی کا ایک ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی ذہنی سانچے کی نظر سے چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ مگر یہاں ایک برتر ذہنی سانچہ ہے۔ یہ ذہنی سانچہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ حالات سے اوپر اٹھ سکے۔ وہ چیزوں کو اللہ کی روشنی سے دیکھنے لگے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: اتقوا فراسة المومن فانہ ينظر بنور اللہ (الترمذي، رقم الحديث: 3392)۔ یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ مومن، اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اللہ کے نور سے دیکھنے کا مطلب ہے- چیزوں کو ربانی نقطہ نظر سے دیکھنا۔ قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اسی ربانی شاکلہ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کتاب کو درست طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قاری، مصنف کے ذہن سے کتاب کو پڑھ سکے۔ کسی بھی کتاب کو جب آدمی پڑھتا ہے تو وہ اس کو خود اپنے شاکلہ کے مطابق، پڑھتا ہے۔ ہوورڈفاسٹ(Howard (Howard Fast) ایک کمیونسٹ تھا۔ خروشیف کے مشہور انکشاف (1956) کے بعد اس نے کمیونسٹ پارٹی کو چھوڑ دیا۔ وہ اصلاً ایک مارلسٹ (moralist) تھا۔ اس نے کمیونسٹ لیڈروں کی تحریریں پڑھیں تو اس کو محسوس ہوا کہ کمیونزم سماجی اخلاقیات کی ایک تحریک ہے، جب کہ حقیقت ایسی نہ تھی۔ بعد کو اس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں خود اپنے ذہنی سانچے میں کمیونسٹ بنا: I accepted communism according to my own mindset. یہی معاملہ ہر انسان کا ہے۔ اگر آدمی کا ذہن بنا ہوا نہ ہو تو وہ قرآن کو خود اپنے ذہنی سانچے میں پڑھے گا۔ وہ قرآن کو پڑھ کر بھی قرآن کو نہیں پائے گا۔ یہی وہ بات ہے جو ایک صحابی نے ان الفاظ میں کہی ہے: تعلمنا الإيمان ثم تعلمنا القرآن (یعنی ہم نے ایمان کو سیکھا، پھر ہم نے قرآن کو سیکھا)۔ صحابی کے اس قول میں ایمان سیکھنے سے مراد یہ ہے کہ ہم نے پہلے اپنے ذہنی شاکلہ کی تشکیل ربانی اصول پر کی، پھر ہم اس قابل ہوئے کہ ہم قرآن کو پڑھ کر اس کو درست طور پر سمجھ سکیں۔ ربانی شاکلہ کو دوسرے الفاظ میں، مثبت شاکلہ (positive mindset) کہا جا سکتا ہے۔
غیر قرآنی ذہن
ربانی شاکلہ کیا ہے۔ ربانی شاکلہ دراصل غیر متعصبانہ طرز فکر (unbiased thinking) کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues