Al-Risala · August 2013 · page

ربانی شاکلہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

وہ قاری قرآن کے اندر فرقان کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ قاری کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی چیز کے دو پہلوؤں کے درمیان فرق کر سکے۔ مثلاً وہ ایسا کر سکے کہ وہ کسی چیز کے پلس پوائنٹ کو اس کے مائنس پوائنٹ سے الگ کر کے دیکھ سکے۔

موجودہ زمانے میں نو آبادیاتی طاقتیں مغربی تہذیب کو لے کر مسلم دنیا میں داخل ہوئیں۔ اس مغربی تہذیب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ وہ مغربی قوموں کو مسلم دنیا میں غالب کر رہی تھیں۔ اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ لوگ پہلی بار دنیا میں جدید مواقع لائے تھے، جن میں کمیونیکیشن سرفہرست ہے۔ اب علماء قرآن کو چاہیے تھا کہ وہ ان دونوں پہلوؤں کو الگ کر کے دیکھیں۔ وہ خُذ ما صفاوَدَع ما کدر کے اصول پر مغربی تہذیب کے غیر مطلوب پہلو کو نظر انداز کر دیتے اور دعوتی مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ، مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ دور جدید کے علما اور رہنما اس معاملے میں فرقان کی صفت سے محروم تھے، یعنی مغربی تہذیب کے مذکورہ دو پہلوؤں کے درمیان فرق کرنا ۔ اُن کے مطالعہ قرآن نے اُن کے اندر یہ صلاحیت پیدا نہیں کی تھی کہ وہ مغربی تہذیب کے اندر چھپے ہوئے مثبت دعوتی پہلو کو اس کے دوسرے پہلو سے الگ کر کے دیکھیں اور دعوتی مواقع کے پہلو کو استعمال کر کے دور جدید میں اسلام کی عالمی دعوتی اشاعت کا کام انجام دے سکیں۔

ربانی شاکلہ

حقیقت یہ ہے کہ قرآن فہمی کے لیے مذکورہ 15 علوم کے علاوہ ایک اور ضروری چیز درکار ہے، اور یہی چیز دور جدید کے علما اور رہنماؤں کو حاصل نہ تھی، اور وہ ہے ربانی شاکلہ۔ اس علم کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ ۖ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84) یعنی کہو کہ ہر ایک اپنے شاکلہ پر عمل کر رہا ہے۔ اب صرف تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر قائم ہے۔

اس آیت میں شاکلہ کا مطلب ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ قریبی حالات کے اعتبار سے،

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page