Al-Risala · August 2013 · page

چند وضاحتی مثالیں

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

خود قرآن سے نہ تھا، بلکہ خود اُن کے اپنے مائنڈ سیٹ سے تھا۔

2- امام ابن تیمیہ کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب میں انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام میں شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ حکم قرآن کی متعدد آیتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً اس سلسلے میں انھوں نے قرآن کی یہ آیت پیش کی ہے: اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (33:57) یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، اللہ نے اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی۔

ابن تیمیہ آیت کی شرح میں لکھتے ہیں: وهذه الآية تو جب قتلَ مَن آذى الله ورسوله (صفحہ 26) یعنی یہ آیت واجب قرار دیتی ہے کہ اُس شخص کو قتل کر دیا جائے جو اللہ کو اور اس کے رسول کو ایذا پہنچائے۔ مذکورہ آیت کی اس شرح کا تعلق خود قرآن کی آیت سے نہیں ہے۔ اس آیت میں شتم رسول پر قتل کا مسئلہ سرے سے بیان ہی نہیں ہوا ہے، مگر مصنف کے خود اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے ’’اذیت‘‘ کو شتم کے معنی میں لے لیا، اور ’’لعنت‘‘ کو قتل کے معنی میں۔ یہ دونوں باتیں خود مصنف کے دماغ میں تھیں، وہ ہرگز قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود نہ تھیں۔ ربانی مائنڈ سیٹ کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، وہ نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اگر ربانی مائنڈ سیٹ نہ ہو تو آدمی قرآن کی رہنمائی سے محروم ہو جائے گا۔ وہ کسی مسئلے کو دیکھ کر اپنے مائنڈ سیٹ کی بنا پر اس کے بارے میں منفی رائے دے گا، حالاں کہ اُس مسئلے کے بارے میں قرآن میں مثبت نقطہ نظر موجود ہوگا۔ مگر وہ اپنی منفی سوچ کی بنا پر قرآن کی اس رہنمائی کو اخذ کرنے سے محروم رہے گا۔ مثلاً ایک عربی مجلہ میں مسلم اقلیتوں کے بارے میں ایک مضمون چھپا ہے۔ مضمون نگار نے اپنے اس مضمون میں مسلم اقلیتوں (Muslim minorities) کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: الأقليات المسلمة تواجه خطر الذوبان (مسلم اقلیتوں کے لیے غیر مسلم اکثریت میں جذب ہونے کے خطرے کا سامنا)۔ مسلم اقلیتوں کے بارے میں یہ تصور تمام تر خود ساختہ مائنڈ سیٹ کی بنا پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page