Al-Risala · August 2013 · page

اجتہادی تفسیر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

پیدا ہوا۔ اگر اس مسئلے کو ربانی شاکلہ کی نسبت سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ قرآن کسی اقلیت کے بارے میں برعکس طور پر پر امید تصور دیتا ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ (2:249) یعنی کتنے ہی اقلیتی گروہ ہیں جو اکثریتی گروہ پر غالب آجاتے ہیں، اللہ کے اذن سے۔

قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ جب دو گروہ کسی علاقے میں مشترک طور پر رہتے ہوں، ایک گروہ اقلیت میں ہو اور دوسرا گروہ اکثریت میں۔ ایسے ماحول میں یہ ہوتا ہے کہ اکثریتی گروہ، اقلیتی گروہ کے لیے ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کے اندر فطری طور پر زیادہ سوچ اور زیادہ عمل کا مزاج بناتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ جو پہلے صرف ایک اقلیتی گروہ تھا، اب وہ ایک تخلیقی اقلیت (creative minority) بن جاتا ہے۔ اور یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ جس فرد یا جس گروہ میں تخلیقی صلاحیت پیدا ہوجائے، وہ زیادہ بڑے کارنامے انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔

اجتہادی تفسیر

اجتہادی تفسیر اور تفسیر بالرائے دونوں ایک تفسیر نہیں ہیں۔ تفسیر بالرائے ایک غیر مطلوب تفسیر ہے۔ اس کے مقابلے میں، اجتہادی تفسیر عین مطلوب تفسیر ہے۔ تفسیر بالرائے قرآن سے انحراف ہے، جب کہ اجتہادی تفسیر کامل معنوں میں قرآن کا اتباع ہے۔

اجتہادی تفسیر کیا ہے؟ ۔ اجتہادی تفسیر کا مطلب قرآن کی کسی آیت کی معنویت کو از سر نو دریافت کرنا ہے۔ اجتہادی تفسیر دراصل یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کا انطباق نو (re-application) معلوم کیا جائے۔ اجتہادی تفسیر، قرآن کے تسلسل کا اظہار ہے۔ صرف اجتہادی تفسیر کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ قرآن ہر دور کے ذہن کو ایڈریس کرتا رہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انبیا اپنے وقت کے ملاء کو خطاب کرتے تھے۔ ملاء کا لفظ قرآن میں تقریبا 30 بار آیا ہے۔ ملاء کا مطلب ہے — سردار قوم (head of nation)۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page