خدا کا تخلیقی منصوبہ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
خدا کا تخلیقی منصوبہ
قرآن ، خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی منصوبہ(creation plan of God) کو جانتا ہو۔ خدا کی کتاب اور خدا کا تخلیقی منصوبہ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہوسکتا۔ ضروری ہے کہ قرآن کا قاری قرآن کے اس پہلو کو شعوری طور پر جانے، ورنہ وہ قرآن کی ایسی تفسیر کرے گا جو خدا کے تخلیقی منصوبے سے مطابقت کرنے والی نہ ہوگی، اور اس بنا پر وہ بداہۃً ہی قابلِ رد ہوگی:
Prima facie it stands rejected
اس کی ایک مثال وہ تفسیر ہے جس کے مطابق، رسول پر شتم کرنا ایک ایسا فعل ہے جس پر شاتم مستوجبِ قتل ہو جاتا ہے۔ یہ نظریہ سرتا سر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے۔ وہ خدا کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ اِس کو اختیار ہے، وہ چاہے تو اس آزادی کا صحیح استعمال کرے اور چاہے تو وہ اس آزادی کا غلط استعمال کرے (76:3)۔ آزادی کے غلط استعمال پر ضرور انسان کی پکڑ ہوگی، لیکن یہ پکڑ صرف آخرت میں ہوگی، دنیا میں ہرگز نہیں۔ ایسی حالت میں شاتم کے لیے قتل کی سزا مقرر کرنا، خدا کے منصوبہ تخلیق میں ایک متناقض (inconsistent) حکم ہوگا، جب کہ قرآن خود اپنے بارے میں یہ اعلان کرتا ہے کہ اس میں کوئی تناقض نہیں (4:82)۔ قرآن کی صحیح تفسیر کے لیے یہ ایک لازمی شرط ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں باشعور نہ ہوں، وہ یقینی طور پر قرآن کی صحیح تفسیر کرنے میں ناکام رہیں گے۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سماجی جرائم(social crimes) پر سزا ہے۔ مثلاً چوری اور قذف، وغیرہ۔ مگر جہاں تک فکری جرائم (intellectual crimes) کا تعلق ہے، اُن پر اسلام میں کوئی جسمانی سزا(physical punishment) نہیں۔ فکری جرائم پر صرف دعوت و تبلیغ ہے، نہ کہ سزا۔ اس معاملے میں قرآن کے یہ الفاظ انتہائی حد تک واضح ہیں: فَذَکِّرْ اِنَّمَا اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues