Al-Risala · August 2013 · page

Prima facie it stands rejected

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

العَذَابِ الأَكْبَرِ O إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ O ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (26-88)۔ غیر قرآنی ذہن کی تطہیر اصل یہ ہے کہ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اپنے تجربے اور مطالعے کے مطابق، اس کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset) بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کو دیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ اسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہا گیا ہے۔ قرآن کو سمجھنے کی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اس ذاتی شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلہ کی روشنی میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے۔

مثال کے طور پر ہر آدمی کو اپنی زندگی میں کچھ منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ اس کو لوگوں کی طرف سے ناخوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔ ان تجربات کی بنا پر تقریباً ہر آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ خارجی دنیا کے بارے میں منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی تحریکیں لوگوں کے درمیان بہت جلد مقبول ہو جاتی ہیں جو کسی خارجی ظالم کے خلاف اٹھائی گئی ہوں۔ اس ذہن کو لے کر جو آدمی قرآن کو پڑھے گا، وہ پوری طرح قرآن کو سمجھ نہیں سکتا۔ مثلاً وہ قرآن میں صبر کی تعلیم پڑھے گا۔ وہ پڑھے گا کہ اللہ کے یہاں صبر کرنے والے کو سب سے زیادہ ثواب (reward) ملے گا۔ وہ اپنے مخصوص ذہن کی بنا پر یہ سمجھے گا کہ قرآن ظالم کے مقابلے میں جھکنے کی تعلیم دیتا ہے۔ چناں چہ اس کو قرآن کی تعلیمات زیادہ اپیل نہیں کریں گی۔

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ آدمی پہلے یہ دریافت کرے کہ اس دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) کیا ہے۔ وہ منصوبہ یہ ہے کہ اس دنیا کو خدا نے دار الامتحان (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ اس بنا پر یہاں ہر انسان کو عمل کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ ہر آدمی آزاد ہے، خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز جس کو فلاسفہ پرابلم آف اول (problem of evil) کہتے ہیں، وہ دراصل پرابلم آف فریڈم (problem of freedom) ہے۔ چوں کہ اس دنیا میں انسان کی آزادی کو منسوخ کرنا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page