Al-Risala · August 2013 · page

فلسفیانہ ذہن کے تحت قرآن کا مطالعہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

ممکن نہیں، اس لیے دنیا سے برائی کا کلی خاتمہ بھی ممکن نہیں۔

ایسی حالت میں اگر ایک شخص چیزوں کا آئیڈیل معیار (ideal yardstick) اپنے ذہن میں رکھ کر قرآن کا مطالعہ کرے تو وہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھ نہ سکے گا۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں جو چیز ممکن ہے، وہ فرد کی کامل اصلاح ہے، سماج کی کامل اصلاح اس دنیا میں ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے، آئیڈیل معنوں میں انصاف پسند بنے، لیکن سماج کے معاملے میں وہ ورکنگ انصاف (working justice) پر راضی ہو جائے۔

فلسفیانہ ذہن کے تحت قرآن کا مطالعہ

اس طرح اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ فلسفیانہ ذہن کو لے کر اگر کوئی شخص قرآن کا مطالعہ کرے تو وہ قرآن کو سمجھنے میں ناکام رہے گا۔ فلسفیانہ ذہن یہ ہے کہ چیزوں کا کلی علم حاصل کیا جائے ۔ فلسفیانہ ذہن محدود علم پر راضی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، قرآن کا یہ کہنا ہے کہ : وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (17:85)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے مضامین دو قسم کے ہیں ایک وہ جو ہماری معلوم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور دوسرے مضامین وہ ہیں جو امور غیب سے متعلق ہیں۔ پہلے قسم کی باتوں کو محکم زبان میں بیان کیا گیا ہے، یعنی الفاظ میں جو بات ہے، وہی حقیقت میں بھی مطلوب ہے۔ محکم آیتوں پر غور کر کے اُن کی کلی معنویت تک پہنچنا ممکن ہے۔

دوسری قسم کی آیتیں وہ ہیں جن کو قرآن میں متشابہات (3:7) کہا گیا ہے۔ یہ آیتیں وہی ہیں جو امور غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان آیتوں میں مشابہت کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، یعنی کسی بات کو تمثیلی زبان (allegorical language) میں بیان کرنا۔ ان دوسری قسم کی آیتوں میں بیان کردہ باتوں کو صرف اجمالی طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ اس معاملے میں وہ اجمالی علم پر قناعت کرے، وہ اُس کی آخری تہ تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے، ورنہ وہ کنفیو ژن کاشکار ہوجائے گا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا (3:7)۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ سچا علم رکھنے والے لوگ متشابہ آیتوں کی تہ تک

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page