قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
ہم لوگوں سے لڑ کر دنیا میں خدا کی سیاسی حکومت قائم کریں۔ یہ بلاشبہ تفسیر بالرائے ہے، کیوں کہ قرآن کی اس آیت میں حکم سے مراد فوق الطبیعی (supernatural) حکم ہے، نہ کہ سیاسی حکم۔ قرآن کی مذکورہ آیت کی تفسیر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں پیشگی طور پر جو تصور ہو، اُس کو لے کر آپ قرآن کو پڑھیں، اور پھر ایک مشابہ لفظ (حکم) پا کر یہ کہنے لگیں کہ دیکھو، قرآن بھی اِسی تصورِ سیاست کی تعلیم دے رہا ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ تفسیر بالرائے کا طریقہ ہے۔ تفسیر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ قرآن کی اس آیت پر کھلے ذہن کے ساتھ تدبر کریں۔ آپ آیت کے سیاق (context) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کریں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ پر یہ واضح ہو جائے گا کہ اس آیت میں اصنام پرستی کے عقیدے کی تردید کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس آیت میں حکم (اقتدار) سے مراد وہ اقتدار ہے جو زمین اور آسمان میں براہِ راست طور پر خدا نے قائم کر رکھا ہے، یہاں اُس سیاسی اقتدار کا کوئی ذکر نہیں جس کو انسان دوسرے انسانوں کے مقابلے میں سماج کی سطح پر قائم کرتا ہے، یعنی خدا کا قائم کردہ فوق الطبیعی اقتدار، نہ کہ انسان کا قائم کردہ سیاسی اقتدار۔
قرآن کی تفسیر خواہ کسی بھی انداز میں کی جائے، ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آدمی اپنی رائے کو استعمال کرے گا۔ رائے سے مراد عقلی غور و فکر ہے اور عقلی غور و فکر کے بغیر کوئی بھی تفسیر ممکن نہیں، حتی کہ تقلیدی تفسیر بھی نہیں۔ قرآن کی سورہ ص میں ارشاد ہوا ہے: كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَکٌ لِيَدَّبَّرُوۡا اٰيٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ (38:29) یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔
تدبر کا مطلب غور و فکر (contemplation) ہے۔ قرآن میں تدبر یہ ہے کہ آپ کسی تعصب کے بغیر کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھیں، اس کے تمام پہلوؤں پر کسی تحفظ ذہنی (reservation) کے بغیر غور کریں۔ آپ کا مقصد سچائی کی تلاش ہو، نہ کہ اپنی بات کو قرآن سے نکالنا۔ اسی کے ساتھ آپ کو یہ اندیشہ لگا ہوا ہو کہ اگر آپ نے قرآن کی کسی آیت کی غلط تفسیر کی تو وہ خدا کے یہاں مقبول نہ ہوگی اور آپ اس کے لیے پکڑے جائیں گے۔ اس طرح کی سنجیدہ فکر کے ساتھ جو تفسیر کی جائے، اسی کا نام تدبر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues