Al-Risala · August 2013 · page

قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

اور تدبر کے ساتھ قرآن کی تفسیر کرنے کا طریقہ ہی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، غیر ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے، اور ذمے دارانہ تفسیر کا نام تفسیر بالتدبر۔ فہم قرآن قرآن میں 114 سورتیں ہیں۔ اس کی سورہ نمبر 103 کا نام العصر ہے۔ سورہ العصر کے بارے میں امام شافعی (وفات: 820ء) کا مشہور قول ہے کہ: لو تدبر الناس هذه السورة، لوسعتہم (اگر لوگ سورہ العصر میں تدبر کریں تو یہی ایک سورہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائے)۔ یہ بات بذات خود بالکل درست ہے۔ تدبر قرآن، نہ صرف سورہ العصر کو سمجھنے کے لیے، بلکہ پورے قرآن کے فہم کی کلید ہے۔ لیکن قرآن میں تدبر کی دو سورتیں ہیں— ایک ہے، فنی تدبر، اور دوسرا ہے، عارفانہ تدبر۔ قرآن کے مطالعے کے لیے فنی تدبر صرف ابتدائی فہم قرآن کے لیے کارآمد ہے۔ جہاں تک گہرے فہم قرآن کا تعلق ہے، اس کا حصول صرف عارفانہ تدبر کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔

فنی تدبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی لغت اور نحو اور صرف اور شان نزول، وغیرہ جیسی باتوں سے واقفیت رکھتاہو- ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ قرآن کے سادہ مفہوم کو بظاہر صحت کے ساتھ سمجھ لے، مگر جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: لكل آية منها ظهر وبطن (الطبراني 105/10)۔ اس قسم کا فہم قرآن کسی آدمی کو صرف ظہر قرآن سے واقف کرا تا ہے، لیکن جہاں تک بطن قرآن کا معاملہ ہے، اُس سے آگاہ ہونے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں۔ بطن قرآن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے دین کی گہری معرفت ضروری ہے۔ یہ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ قرآن اور سنت کا مطالعہ کرے، جو لمبی مدت تک دعا اور ذکر الہی میں زندگی گزارے، وہ صبح وشام کے لمحات میں قرآن کا طالب بنا ہوا ہو، جس کا مسلسل غور وفکر اس کو معرفت (realization) کی اُس سطح تک پہنچادے، جب کہ وہ فنی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت کا ادراک کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ اُس وقت وہ اُس درجہ معرفت کو حاصل کرلیتا ہے جس کو حدیث میں "محدث" (صحيح البخاري، رقم الحديث: 3689) کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page