Al-Risala · August 2013 · page

None can touch the Quran except the purified.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

ایک شخص اگر فنی علوم کو حاصل کر لے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ قرآن کی کسی آیت کے ظاہری پہلوؤں کو بخوبی طور پر جان لے۔ اُس آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے، اس کا شان نزول کیا ہے، سیاق و سباق کی رعایت سے اس کا کیا مفہوم بنتا ہے اور کیا مفہوم نہیں بنتا، وغیرہ۔ ایک شخص جس کو فنی واقفیت حاصل ہو، وہ آیت کے ظاہری مفہوم کو سمجھ سکتا ہے، لیکن اُس آیت میں الفاظ کے ماورا جو حقیقتیں چھپی ہوئی ہیں، وہ اُن سے بے خبر رہے گا۔ مثلاً وہ اس بات کو جان لے گا کہ الحمد للہ رب العالمین کا لفظی ترجمہ کیا ہے۔ لیکن قرآن کی اس آیت میں ایک اور گہرا پہلو چھپا ہوا ہے، لیکن اس گہرے پہلو تک پہنچنے کے لیے صرف فنی واقفیت کافی نہیں۔ یہ گہرا پہلو وہ ہے جس کا علم صرف صاحب معرفت انسان کو ہوتا ہے، صاحب معرفت انسان وہ ہے جس نے اللہ کی عظمتوں کو دریافت کر رکھا ہو، جس کے غور و فکر نے اس کو اللہ کی کائناتی ربوبیت کی پہچان کرا دی ہو، جو زمین و آسمان میں اس کی رحمتوں کا تجربہ کر رہا ہو۔ ایسا شخص جب الحمد للہ کہے گا تو اس کا شعور معرفت ان الفاظ کے اندر معانی کا سمندر بھر دے گا۔ الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر کرتے ہوئے اس کو محسوس ہوگا کہ انسائیکلو پیڈیا کی وسیع جلدیں بھی اس کی تفسیر کے لیے ناکافی ہیں۔ قرآن کی فنی تفسیر قرآن کی صرف ٹیکنکل تفسیر ہے، اور قرآن کی عارفانہ تفسیر، قرآن کی تخلیقی تفسیر (creative commentary) ہے۔ فنی صلاحیت کے لیے کتابی مطالعہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن معرفت ایک خدائی عطیہ ہے۔ معرفت کسی انسان کو صرف خدا کی توفیق سے ملتی ہے، اور خدا کی توفیق اُس انسان کو حاصل ہوتی ہے جس نے خدا کو اپنا واحد کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ قرآن فہمی کی شرط قرآن کی سورہ الواقعہ میں، قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لا يمسه إلا المطهرون (56:79) یعنی قرآن کو صرف وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاکیزہ ہیں :

None can touch the Quran except the purified.

اس آیت کی تفسیر میں پاکیزہ سے کون لوگ مراد ہیں۔ کچھ لوگ اس سے مراد فرشتوں کو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page