Al-Risala · August 2013 · page

القرآن مشن، کشمیر

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

لیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مراد پاک اور باوضو لوگ ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل اس آیت کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن کے معانی تک پہنچ صرف اُن لوگوں کے لیے ممکن ہوتی ہے جو پاکیزہ ذہن کے حامل ہوں۔

راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اپنی کتاب المفردات میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے :انہ لا يبلغ حقائق معرفته إلا من طهر نفسه (صرف وہ شخص معارف قرآن کے حقائق تک پہنچے گا جو اپنے نفس کی تطہیر کرے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں پاکیزگی سے مراد اصلاً اخلاقی یا جسمانی پاکیزگی نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ذہنی یا نفسیاتی پاکیزگی ہے۔ قرآن ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جو کامل طور پر مثبت ذہن کا حامل ہے، وہ مکمل طور پر منفی سوچ سے پاک ہے۔ ایسی حالت میں، قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ لازمی شرط ہے کہ قرآن کے قاری کا شاکلہ، قرآن کے مصنف کے شاکلہ کے ہم سطح ہو جائے۔ اس کے بغیر کسی قاری کی پہنچ قرآن کے مضامین تک نہیں ہو سکتی۔ جو قاری اس ذہنی ارتقا کا حامل ہو کہ اس کا ذہن مکمل طور پر مثبت ذہن (positive mind) بن چکا ہو، وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح خالی ہو۔ ایسے ہی انسان کی پہنچ قرآن کے گہرے معانی تک ہوگی۔ ایسے ہی انسان پر اللہ کی توفیق سے قرآن کے گہرے معانی کے دروازے کھلیں گے۔ (2012)

القرآن مشن، کشمیر

کشمیر میں موجود دعوتی مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ایک منظم دعوتی مہم چلائی جارہی ہے۔ جو حضرات اس پروگرام میں شامل ہونا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Al-Quran Mission, Kashmir Email: kwc.beerwah@gmail.com, Mob. 9419488008

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page