Al-Risala · January 2013 · page

کشتی نوح اور ترکی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

انسان کے لیے جو نقشۂ حیات مقرر کیا تھا اور پیغمبروں کے ذریعے جس کا علم بھیجا تھا، انسان نے اس کو کامل طور پر نظر انداز کیا، حتیٰ کہ اس کو اپنی تاریخ سے حذف کر دیا۔ کشتی نوح کا ظہور اس حذف شدہ تاریخ کو دوبارہ سامنے لانے کے ہم معنی ہوگا۔

یہی وہ وقت ہوگا جب کہ خدا کی محفوظ کتاب قرآن کو تمام انسانوں کے سامنے لایا جائے، کیوں کہ قرآن واحد کتاب ہے جس میں پیغمبروں کی تاریخ اور خدا کے منصوبہ تخلیق کو واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ کشتی نوح کا ظہور تاریخ انسانی کے ایک گم شدہ باب کی دریافت ہوگا اور قرآن تاریخ کے اس گم شدہ باب کا مستند بیان (authentic statement)۔

کشتی نوح اور ترکی

جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی۔ وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جا سکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا۔ پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کے مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی۔ ایسا کیوں ہوا ۔ حضرت نوح کی کشتی کے لیے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا۔ ایسا بلا شبہہ خدا کی ہدایت پر ہوا۔ اس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں لے سکتے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں ۔

اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوں مقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی ایک مسلم ملک بنے گا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page