Al-Risala · January 2013 · page

کشتی نوح اور ترکی

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳

اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹر پن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جا سکے۔

یہ مطلوب رول کیا ہے۔ وہ بلاشبہہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ ہوا۔ کشتی نوح براہ راست طور پر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طور پر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت۔

اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہو جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تخلیق کیا تھا۔ کشتی نوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابل انکار شہادت ہے۔ اور مختلف اسباب سے اس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا۔

ضرورت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو۔ مثال کے طور پر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طور پر ڈولپ (develop) کریں۔ وہ وہاں آمد ورفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں۔ پھر وہاں اعلیٰ معیار پر وہ یہ انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو۔ وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو۔ وہاں اس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آ سکے۔ گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues

Printed page