Al-Risala · August 2013 · page 35

فکری مستوی کے مطابق خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳، صفحہ ۳۵

لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4) یعنی ہم نے جو پیغمبر بھی بھیجا، اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تاکہ وہ اُن سے اچھی طرح بیان کر دے:

And We have not sent any Messenger except with the language of his people in order that he might make the message clear to them. قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے حوالے سے ہر دور کے تمام داعیوں کے لیے ہے۔ بعد کے زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے داعیوں کی بھی وہی ذمے داری ہے جو قدیم زمانے میں اپنے ہم عصر مخاطبین کی نسبت سے پیغمبروں کی ذمے داری تھی۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، دعوت الی اللہ کے سلسلے میں داعی کی ذمے داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ مدعو کی زبان میں بول کر اس کو دعوت کا پیغام دے دے۔ اسی کے ساتھ لازمی طور پر وہ چیز بھی ضروری ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں ”تبیین“ کہا گیا ہے۔ تبیین کا مطلب ہے واضح کرنا، بات کو پوری طرح قابلِ فہم بنا دینا۔ اس سے معلوم ہوا کہ داعی کے لیے صرف مدعو کی زبان کا جاننا کافی نہیں، اسی کے ساتھ ضروری ہے کہ وہ مدعو کے مزاج کو سمجھے، وہ مدعو کی ذہنی ساخت کے مطابق، اُس سے خطاب کرے، تاکہ اس کا ذہن ایڈریس ہو سکے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانے میں داعی کی ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے۔ قدیم زمانہ اگر روایتی اسلوب کا زمانہ تھا تو موجودہ زمانہ سائنٹفک اسلوب کا زمانہ ہے۔ آج کا مدعو کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اُس بات کو عقلی اسلوب میں مدعو کے سامنے پیش کیا جائے۔ اس شرط کا تقاضا ہے کہ داعی نہ صرف آج کی زبان سیکھے، بلکہ وہ آج کے ذہن کو پوری طرح سمجھے اور جدید ذہن کو سمجھنے کا یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ انتہائی بے تعصبانہ انداز میں جدید افکار کا مطالعہ کیا جائے۔ یہ کام صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ داعی کے دل میں مدعو کے لیے کامل خیر خواہی موجود ہو۔ اگر کامل خیر خواہی موجود نہ ہو تو نہ زبان کا جاننا کافی ہو سکتا ہے اور نہ جدید علوم کا مطالعہ۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے تمام علما مستشرقین (orientalists) کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ وہ مستشرقین کو اسلام کا دشمن اور اسلام کے خلاف سازش کرنے والا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page