استشراق کی حقیقت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ ایک عرب عالم نے مستشرقین کو دورِ جدید کے تین اثر دھوہوں میں سے ایک اثر دِہا قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: أجنحة المكر الثلاثة، تالیف: عبدالرحمن حبنکہ المیدانی) مستشرقین کے بارے میں یہ رائے یقینی طور پر درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مسلم علما، مغربی مستشرقین کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ نہ پڑھ سکے، اس لیے وہ اُن کے کیس کو بھی سمجھنے سے قاصر رہے۔ مستشرقین کے کیس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس فرق کو سمجھا جائے جو مسلم علما اور مستشرقین کے درمیان پایا جاتا ہے۔ مسلم علما دینِ اسلام کو وحی (revelation) کے ظاہر ہ کے تحت دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس مستشرقین اپنے طریق مطالعہ کے تحت دینِ اسلام کو صرف ایک سماجی ظاہر ہ (social phenomenon) یا تاریخی ظاہر ہ (historical phenomenon) کے طور پر دیکھتے ہیں۔ طریق مطالعہ کے اس فرق کی بنا پر فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ دونوں کی رائے میں کچھ فرق واقع ہو جاتا ہے۔ یہ فرق یقینی طور پر کسی سازشی ذہن یا بدنیتی کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف طریق مطالعہ (method of study) میں فرق کی بنا پر ہوتا ہے۔
استشراق کی حقیقت
استشراق (orientalism) کیا ہے، استشراق اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، صرف ایک چیز کا نام ہے، وہ یہ ہے کہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد مختلف اسباب سے یورپ میں ایک ذہن ابھرا جس کو روح تجسس (spirit of inquiry) کہا جاتا ہے۔ اس روح تجسس نے مزید ترقی پا کر موضوعی طریق مطالعہ (objective method of study) کا عنوان اختیار کیا۔ نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں پیدا ہونے والے تمام علوم، خواہ وہ مذہبی ہوں یا سیکولر، وہ اصلاً اسی طریق مطالعہ کی پیداوار ہیں۔ اس طریق مطالعہ کا استعمال بنیادی طور پر دو بڑے میدانوں میں ہوا— ایک، علم فطرت (natural sciences) اور دوسرا، علم انسانیات (humanities)۔ اس طریق مطالعہ سے بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے۔ ہر شعبے میں نئی نئی حقیقتیں سامنے آئیں، تحقیق کے نئے نئے دروازے کھلے، سوالات کے نئے نئے جوابات ملے، زندگی کے لیے نئی نئی رہنمائیاں حاصل ہوئیں۔ تاہم
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues