کامیاب زندگی کا راز
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
کامیاب زندگی کا راز
مشہور سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے کہا تھا کہ انسانی زندگی بائیسکل چلانے کی مانند ہے۔ اپنا توازن برقرار رکھو اور تم محفوظ طور پر اپنی منزل پر پہنچ جاؤ گے: Life is like driving a bicycle. Maintain your balance and you will safely reach your destination. یہ قول بہت بامعنی ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو دوطرفہ تقاضوں کے درمیان عمل کرنا ہوتا ہے۔ ایک طرف، اس کا اپنا ارادہ اور دوسری طرف، خارجی حالات۔ موجودہ دنیا میں کسی کامیابی کے حصول کے لیے دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ اگر ارادہ ہو، لیکن خارجی حالات کی موافقت موجود نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں۔ اسی طرح اگر خارجی حالات کی موافقت ہو، لیکن ارادہ موجود نہ ہو، تب بھی کامیابی ناممکن ہو جائے گی۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے کسی منصوبے کی تکمیل کرنا چاہے تو ہمیشہ وہ حالات پر پوری نظر رکھے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلنے لگے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ کسی ایک پہلو کو نظر انداز کر کے دوسرے پہلو کی طرف بہت زیادہ جھک جائے۔ وہ ایسا بھی نہ کرے کہ وہ اپنا زیادہ اندازہ (overestimation) کرے اور حالات کا کم تر اندازہ (underestimation) کرنے لگے۔ اس قسم کی کوئی بھی غلطی اس کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔ آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک انتہا پسند مخلوق ہے۔ آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ ایک پہلو کی طرف اس طرح جھک جاتا ہے کہ وہ دوسرے پہلو کی رعایت کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ اس قسم کے عدم توازن کے ساتھ کسی شخص کا اس دنیا میں کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ توازن بلا شبہ ایک اہم اصول ہے، لیکن توازن سے مراد عملی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا ہے، نہ کہ فکری اور نظریاتی معاملات میں توازن کا طریقہ اختیار کرنا۔ نظری معاملات میں آدمی کا نشانہ آئیڈیل ہونا چاہیے، لیکن عملی معاملات میں اس کو پریکٹیکل بن جانا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues