Al-Risala · August 2013 · page

دریافت کی عظمت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

دریافت کی عظمت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور کا واقعہ ہے۔ آپ کے چچا ابو طالب نے ایک بار آپ کو بلایا اور کہا کہ قوم کے ساتھ مصالحت کا انداز اختیار کرو (فاکفف عن قومك ما يكرهون من قولك)۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا عم، لو وضعَت الشمس في یمینی والقمر في يساري، ما تركت هذا الأمر (حياة الصحابة: 1/58) یعنی اے میرے چچا، اگر یہ لوگ ایسا کریں کہ وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور میرے بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں، تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا۔

اس واقعے سے ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ — جتنی بڑی دریافت، اتنی بڑی عزیمت۔ اگر آدمی ایک ایسی حقیقت پر کھڑا ہوا ہو جو اس کے لیے سورج اور چاند سے بھی زیادہ بڑی ہے تو ہر دوسری چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جائے گی۔ ایسا آدمی کسی بھی عذر کو لے کر اپنے موقف کے معاملے میں مصالحت کا انداز اختیار نہیں کر سکتا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ آپ کو توحید کا نظریہ وحی خداوندی کے تحت بطور اعلیٰ معرفت حاصل ہوا۔ اسی اعلیٰ معرفت کے تحت آپ اپنے مشن کو لے کر کھڑے ہوئے۔ آپ کی جو دریافت تھی، وہ آپ کے لیے ساری کائنات سے زیادہ بڑی تھی۔ ایسا انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کسی مصلحت کی بنا پر اس کو چھوڑ دے یا وہ اس میں کوئی کمی کرے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ قول بھی ایک سنتِ رسول ہے۔ وہ ایک واقعے کی صورت میں ایک عظیم حقیقت کو بتاتا ہے، وہ یہ کہ ایک بڑی دریافت تمام دوسری چیزوں کو چھوٹا کر دیتی ہے۔ ایسا آدمی کسی قسم کے رکون (11:113) کا تحمل نہیں کر سکتا۔ اگر آپ کسی شخص کے اندر یہ بات پائیں کہ وہ قوم کے اندر برائی دیکھتا ہے، لیکن وہ اپنے مادی تحفظات کی بنا پر اس کی کھلی مذمت نہیں کرتا تو سمجھ لیجیے کہ اس کو جو چیز ملی ہے، وہ اتنی بڑی نہیں کہ ہر قومی یا دنیوی مصلحت اس کے لیے چھوٹی ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page