‘Sorry’ is the hardest word to say.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقتِ اپنی بے خبری کی طرف“ (صفحہ: 792)۔ آپ نے روح سے مراد ”وحی الہیٰ “لیا ہے، لیکن صحیح ترین روایات اور مفسرین کی تشریحات کی رو سے یہ تشریح درست نہیں۔ مثال کے طور پر ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ یہودیوں نے پیغمبر سے روح کی بابت سوال کیا کہ اسے جسم کے ساتھ عذاب کیوں ہوتا ہے، وہ تو اللہ کی طرف سے ہے۔ چوں کہ اس بارے میں کوئی وحی آپ پر نہیں اتری تھی، اس لیے آپ نے ان سے کچھ نہ فرمایا۔ اسی وقت آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مذکورہ آیت اتری (جلد سوم، صفحہ 220) مولانا عبدالماجد دریابادی نے اپنی تفسیر (تفسیر ماجدی) میں سورہ بنی اسرائیل کی اس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”روح سے مراد روح انسانی ہے جو انسان کا سبب حیات ہے: في هذه الآية أقوال - أظهرها أن المراد من الروح الذي هو سبب الحياة (کبیر، جلد سوم، صفحہ: 72)۔ امید ہے کہ اس اشکال پر غور فرمائیں گے اور اپنے جواب سے مطلع کریں گے ۔ (شاہد جمیل، کلکتہ)
جواب
اس آیت میں ”روح“ سے مراد کیا ہے، اس میں اختلاف ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر القرطبی) قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر روح کا لفظ وحی کے معنی میں آیا ہے۔ اسی کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو سورہ المومن (40) کی آیت نمبر 15۔ سوال عرض ہے کہ آپ کی فکر انگیز تحریروں کا مطالعہ 1986 سے مسلسل کر رہا ہوں اور دعوتی کام میں بھی مصروف عمل ہوں۔ آپ سے اس خط کے ذریعے کچھ ذہنی اشکالات کا فوری چاہتا ہوں۔ اُمید ہے کہ آپ جواب مرحمت فرما کر میرے ان اشکالات کو دور کریں گے۔
1 ۔ آپ دعوتی نقطہ نظر سے اکثر reasoning پر بہت زور دیتے ہیں، لیکن قرآن میں بہت سارے واقعات beyond reasoning ہیں۔ مثلاً اصحاب کہف کا واقعہ، حضرت سلیمان کے واقعات، حضرت عیسی کے واقعات، وغیرہ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر ہم اسلام کے تمام حقائق کو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues