‘Sorry’ is the hardest word to say.
الرسالہ، اگست ۲۰۱۳
reason-based تصور کریں یا بنانے کی کوشش کریں تو کیا پورے اسلامی ڈھانچے پر شک پیدا نہیں ہوگا۔ اسی طرح آپ نے لکھا ہے کہ حبِ شدید کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے کسی اور سے نہیں۔ (الرسالہ، مئی 2013) اس سے یہ نتیجہ اخذ ہورہا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ بھی اگر حب شدید ہو تو یہ مشرکین کا طریقہ ہے اور بالفاظِ دیگر یہ خدا کا حصہ پیغمبر کو دینے جیسا ہے۔ عرض ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت کو اپنی اطاعت ٹھہرایا (4:80) اور سورہ الفتح میں فرمایا کہ ”جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں“ (48:10)۔ تو رسول کے ساتھ محبت درحقیقت اللہ ہی سے محبت کیوں نہیں ہے۔ مزید اللہ کے رسول کے ساتھ حبِ شدید کی ممانعت ہوتی یا یہ مشرکوں کا طریقہ ہوتا تو حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی بات کیوں کرتے۔ ”میری امت میں مجھ سے شدید محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ اُن میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ کاش، وہ مجھے دیکھتا اور اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو فدا کرتا۔ “ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث درج ہے جس میں اللہ اور رسول کی محبت کو ایک ساتھ بریکٹ کیا ہوا ہے: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں وہ ہوں، اُسے ایمان کی حلاوت نصیب ہوگی۔ یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اُسے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں“ (أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما) آپ نے الرسالہ، مئی 2011 میں وطن کے ساتھ محبت کو ایک قول سے استدلال کرکے اس کو ایمان و اسلام کا تقاضا ثابت کیا ہے۔ اس لحاظ سے رسول کی محبت یا دوسرے لفظوں میں رسول سے شدید قلبی تعلق کیسے مشرکانہ طریقہ بن جاتا ہے جب کہ صحابہ کے واقعات شاہد ہیں کہ ان کو پیغمبر کے ساتھ جو شدید قلبی تعلق تھا، وہ کبھی اللہ کی محبت اور اللہ کی عظمت میں آڑے نہیں آیا۔ 3۔ آپ نے الرسالہ میں ایک بار لکھا تھا کہ آپ کے عقائد وہی ہیں جو اہل سنت والجماعت کے ہیں، لیکن ”نزول عیسیٰ“ اور ”شفاعت“ کے عقیدے کے متعلق آپ کی رائے مختلف ہے۔ کیا آپ کے ان دونوں عقیدوں پر یہ رائے حتمی ہے یا جس طرح دابۃ الأرض کے بارے میں آپ کی رائے تبدیل ہوگئی ہے، ان دو عقیدوں کے بارے میں بھی آپ کی رائے تبدیل ہوسکتی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues