Al-Risala · August 2013 · page

‘Sorry’ is the hardest word to say.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۳

براہ کرم ، ان اشکالات کا جواب دے کر میری رہنمائی فرمائیں۔ (الطاف حسین، کشمیر) جواب 1- موجودہ زمانے کو ایج آف ریزن (age of reason) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جو بات کہی جائے، وہ عقل پر مبنی (reason-based) ہو۔ تاہم عقلی استدلال کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ہے مشاہداتی استدلال اور دوسرا ہے۔ استنباطی استدلال۔ اگر استنباطی استدلال کو شامل کر لیا جائے تو کوئی بھی چیز عقلی استدلال سے باہر نہیں رہتی۔ آپ نے جن تین چیزوں کا حوالہ دیا ہے، وہ بھی استنباطی استدلال کے دائرے میں پوری طرح شامل ہیں۔ استنباطی استدلال کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز کے ذریعے استدلال کرنا جو اگرچہ براہِ راست دلیل نہ ہو، لیکن استنباط (inference) یا احتمال (probability) کے ذریعے وہ زیر بحث امر کو مدلل کر رہی ہو۔ تفصیل کے لیے حسب ذیل کتابیں ملاحظہ فرمائیں: The Mysterious Universe by Sir James Jeans- 1930 The Encyclopaedia of Ignorance by Ronald Duncan & Miranda Weston-Smith- 1977 2- حبِ شدید مطلق طور پر صرف ایک ذات سے مطلوب ہے اور وہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔ دوسروں سے محبت ہونا بھی فطری ہے، لیکن وہ محبت بالذات نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف بالواسطہ محبت ہوتی ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جون 2008، صفحہ: 3-2) 3- اہل سنت والجماعت سے وابستگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی مسئلے پر اختلاف نہ ہو۔ اہل سنت والجماعت سے وابستہ ہونے کے باوجود رائے کا اختلاف فطری ہے۔ مثلاً چاروں فقہا یقینی طور پر اہل سنت والجماعت میں شامل ہیں، لیکن اُن کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ادارہ المورد (لاہور، پاکستان) کی اردو اور انگریزی مطبوعات (میزان، البیان، وغیرہ) گڈ ورڈ بکس میں دستیاب ہیں۔ ان کو یہاں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2013 All issues

Printed page