عالمی دعوت کی پیشین گوئی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا— ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخِ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا۔ کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشتی نوح (دابہ) کا ظہور گویا اس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آگیا ہے۔
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس کی تکمیل کر کے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہو چکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا۔
عالمی دعوت کی پیشین گوئی
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام، بعزّ عزيز أو ذلّ ذليل (مسند احمد، رقم الحدیث: 24215) یعنی زمین کے اوپر کوئی گھر یا خیمہ نہیں بچے گا، مگر اللہ وہاں اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا، عزت والے کو عزت کے ساتھ اور ذلت والے کو ذلت کے ساتھ: The day will come when the word of God will enter in every home, big or small of the globe, willingly or unwillingly. اس حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا وقت آئے گا جب یہ ممکن ہو جائے کہ خدا کا کلمہ (word of God) زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک پہنچ جائے۔ عالمی دعوت کا یہ واقعہ کوئی پراسرار واقعہ نہیں ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ واقعہ انسانوں کے ذریعہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues