اسلام اور عقل
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اسلام اور عقل
اسلام اور عقل ایک قدیم موضوع ہے۔ اس موضوع پر بہت سی چھوٹی اور بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مسلمانوں کے علمی ذخیرے میں اس سلسلے میں جو کتابیں موجود ہیں، اُن میں حسب ذیل چار کتابیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں:
1۔ قواعد الأحكام في إصلاح الأنام (دو جلدیں) عزالدین بن عبد السلام (وفات: 1262ء) 2۔ إعلام الموقعین (چار جلدیں) ابن القیم الجوزیہ (وفات: 1350ء)
3۔ الموافقات فى أصول الشريعة (چار جلدیں) ابو اسحاق الشاطبی (وفات: 1388ء) 4۔ حجۃ اللہ البالغہ (دو جلدیں) شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات: 1763ء)
یہ چاروں کتابیں اپنے موضوع پر بلا شبہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ تاہم ان میں ایک مشترک کمی یہ ہے کہ وہ سب جدید دور عقل (modern age of reason) سے پہلے لکھی گئی ہیں۔ قدیم زمانے میں عقلی غور و فکر مبنی بر قیاس ہوتا تھا، موجودہ زمانے میں عقلی غور و فکر مبنی بر سائنس ہوتا ہے۔ اس طرح اب تعقل کا فریم ورک بدل گیا ہے۔ اب اسلامی عقلیات وہی ہے جو سائنسی فریم ورک کی بنیاد پر تیار کی جائے۔ عقل (reason) کیا ہے۔ علمی تعریف کے مطابق عقل اُس ذہنی صلاحیت کا نام ہے جس کے مقدمات سے نتائج اخذ کیے جائیں۔ پچھلے زمانے میں یہ مقدمات قیاسی ہوا کرتے تھے۔ اب ہم سائنسی مقدمات (scientific premises) کے دور میں ہیں۔ آج کی اسلامی عقلیات وہ ہوگی جس میں سائنسی مقدمات کے ذریعے نتائج اخذ کیے گئے ہوں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورہ البقرہ میں قانون شہادت کو بتاتے ہوئے دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے (2:282)۔ قدیم زمانے میں اس فرق کا سبب یہ سمجھا جاتا تھا کہ مرد کا تعلق صنفِ قوی سے ہے اور عورت کا تعلق صنفِ ضعیف سے۔ مگر موجودہ زمانے میں جدید تحقیقات نے ہم کو یہ موقع دے دیا ہے کہ ہم اس فرق کی توجیہہ خالص سائنسی بنیاد پر بیان کرسکیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، اپریل 2006، صفحہ: 9-7)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues