Al-Risala · September 2013 · page

اتباعِ سُبُل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

واضح نہیں ہوتی۔ صحیح یہ ہے کہ وحدتِ وجود اور وحدتِ شہود دونوں اصطلاحوں کو ترک کر دیا جائے اور قرآن کے اسلوب میں یہ کہا جائے کہ اس معاملے میں صحیح اصطلاح توحید کی اصطلاح ہے، یعنی خالق مکمل طور پر الگ ہے اور مخلوق مکمل طور پر الگ۔ دونوں کے درمیان تخلیق کی نسبت ہے، نہ کہ اشتراک کی نسبت۔ اس معاملے میں نئی اصطلاح وضع کرنا خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم سے ہٹنے کے ہم معنی ہے۔ اسی طرح اس معاملے کی ایک مثال وہ لوگ ہیں جو خلافت کے انعقاد کو امت کا فرضِ اول قرار دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امت کے اندر تشدد کا ایک جنگل اگ آیا ہے۔ ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ نے رسول اللہ کی تدفین پر خلافت کے انعقاد کو مقدم قرار دیا۔ مگر یہ استدلال سرتا سر بے بنیاد ہے۔ مذکورہ معاملے میں صحابہ کا تعامل صرف یہ بتاتا ہے کہ جب امارت یا خلافت کا ادارہ عملًا قائم ہو، اُس وقت ایک امیر کی وفات کے بعد دوسرے امیر کے انتخاب میں تاخیر نہیں کرنا چاہئے، تا کہ قائم شدہ نظم کسی رخنہ کے بغیر برقرار رہے۔ جہاں تک امت کے فرض منصبی کا سوال ہے تو وہ صرف ایک ہے اور وہ بلاشبہ پر امن دعوت الی اللہ ہے۔ جہاں تک خلافت یا امارت کا معاملہ ہے، تو وہ حسب ضرورت ایک عملی تقاضا ہے، وہ مطلق معنوں ہے؟ یہاں تک کہ اس کا یا ان کا رہنا ہے، ورنہ اب تک میں امت کا ابدی مشن نہیں۔

کلکتہ میں الرسالہ سے وابستہ افراد کی ماہانہ میٹنگ ہر ماہ کے آخری سنیچر کو ہوتی ہے۔ رابطہ کے لیے ملاحظہ ہو: Mr. Abdullah: 09831345685, Imam Shafique Qasmi: 09903708808 دعوتی مقصد کے لیے مشرقی یوپی، خاص طور پر لکھنوٴ اور اطراف کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Hafiz Mohammad Salman Noori

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page