Al-Risala · September 2013 · page

دین اور شریعت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳

لو لا أن الرسل لا تقتل لضربت أعناقكمما (مسند احمد 3/487) یعنی اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کیے جاتے تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے، وہ یہ کہ حقوقِ انسانی (human rights) کے معاملے میں اسلام کا اصول بھی وہی ہوگا جو بقیہ دنیا کا متفقہ اصول ہوگا۔ مسلّمہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں اسلام بین الاقوامی اصولوں (international norms) کا پابند ہوگا۔ موجودہ زمانے کی نسبت سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ میں مختلف قوموں نے جو حقوقِ انسانی کا منشور (universal declaration of human rights) متفقہ طور پر منظور کیا ہے، وہی عملاً اسلام کا بھی اصول ہے۔

قدیم زمانے میں انسانی حقوق کے معاملے میں مختلف قسم کے فرق ہوتے تھے۔ مثلاً اپنے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون اور دوسرے مذہب والوں کے لیے دوسرا قانون، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام فرق موجودہ زمانے میں اصولاً ختم کردیے گئے ہیں۔ اب عالمی سطح پر یہ مان لیا گیا ہے کہ حقوقِ انسانی کے معاملے میں تمام انسان، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے ہوں، وہ سب ایک ہی قانون کے ماتحت ہوں گے۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانے میں اسلام کا قانون بھی وہی ہوگا جو بقیہ دنیا کا قانون ہے۔ حقوقِ انسانی (human rights) کا تعلق دین سے نہیں ہے، بلکہ شریعت سے ہے۔ جس طرح پچھلے زمانے میں انسانی حالات کے اعتبار سے، مختلف شریعتیں دی گئی ہیں، اسی طرح موجودہ زمانے میں اگر انسانی حالات بدل گئے ہیں تو شریعت میں بھی اس کے مطابق تبدیلی عین جائز ہوگی۔ اس معاملے میں قدیم وجدید کے درمیان صرف یہ فرق ہوگا کہ قدیم زمانے میں شریعت میں یہ تبدیلی پیغمبر کے ذریعے ہوتی تھی اور اب موجودہ زمانے میں شریعت کی یہ تبدیلی علما کے اجتہاد کے ذریعے انجام پائے گی۔ قدیم فقہ کے تحت حقوقِ انسانی کے معاملے میں ایک قانونی نظام بنایا گیا تھا۔ اس قانونی نظام کو عام طور پر شریعتِ اسلامی کا اٹل حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر ایسا سمجھنا درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اس قسم کے فقہی قوانین اُسی طرح قابلِ تغیر ہیں جس طرح قرآن کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues

Printed page