دین اور شریعت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
بیان کے مطابق، شریعتیں قابل تغیر ہوا کرتی ہیں۔ خود فقہا نے اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان - مثلاً اِسی اصول کی بنا پر موجودہ زمانے میں جزیہ کا حکم ساقط ہو جائے گا اور ہر مذہبی گروہ کے اوپر بلا امتیاز ایک ہی قسم کا ٹیکس نافذ کیا جائے گا۔ اِسی طرح قدیم فقہی تقسیم کے مطابق، دار الاسلام اور دار الحرب کا فرق ختم کر دیا جائے گا اور تمام ممالک یکساں قسم کے ملکی قوانین کے تابع قرار پائیں گے، وغیرہ۔
اسلام میں دین اور شریعت کا فرق کوئی سادہ فرق نہیں، یہ فرق ایک اہم حکمت پر مبنی ہے۔ وہ حکمت یہ ہے کہ اگر دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے تو اسلام کا وہ اصل نشانہ ہی پورا نہ ہو سکے گا جو کہ اسلام کا اصل مقصود ہے۔ دین اور شریعت کے درمیان فرق کی حکمت یہی ہے کہ اسلام کا اصل مقصد فوت نہ ہونے پائے۔ اسلام کا اصل مقصد کسی قسم کے قانون کا نفاذ نہیں ہے، بلکہ انسانی شخصیت کی تعمیر اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف سسٹم (Islamization of system) نہیں، اسلام کا اصل نشانہ اسلامائزیشن آف مین (Islamization of man) ہے۔ اسلام کا پورا نظام اسی حکمت کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی سماج کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔ ہر دور کے انسان کچھ رواج اور قانون میں اس طرح کنڈیشنڈ (conditioned) ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کے خلاف سوچ نہیں سکتے۔ ان رواجوں اور ان قوانین کے خلاف لڑنا عملاً پورے سماج سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس طرح سماج کے اندر امن کا وہ معتدل ماحول ختم ہو جاتا ہے جس میں کسی انسان کو اپنی شخصیت کی مطلوب تعمیر کا موقع مل سکے۔ یہی حکمت ہے جس کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ مقرر کیا گیا کہ زمانے کے قانونی ڈھانچے کو بزور بدلنے کی کوشش نہ کی جائے، بلکہ اس معاملے میں، موجود حالات سے عدم تعرض کے طریقے کو اختیار کیا جائے، تاکہ اسلام کا اصل نشانہ، دعوت اور تربیت اور تزکیہ، کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس معاملے میں، اسلام کے اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ — دین کے معاملے میں، آڈیئل ازم، اور سماجی قانون کے معاملے میں اسٹیٹس کوازم-
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues