تہذیب کے دو دھارے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
تہذیب کے دو دھارے
تہذیب (civilization) کے لفظ سے عام طور پر صرف ایک چیز مراد لی جاتی ہے اور وہ مادی تہذیب مگر حقیقت یہ ہے کہ تہذیب کے دو دھارے ہیں جو مسلسل طور پر تاریخ میں جاری رہے ہیں۔ پہلے دھارے کو مادی تہذیب (material civilization) کہا جاتا ہے۔ دوسرے دھارے کو روحانی تہذیب (spiritual civilization) کہہ سکتے ہیں۔ روحانی تہذیب سے مراد کوئی مبہم چیز نہیں۔ اس سے مراد عین وہی چیز ہے جو پیغمبروں کی ہدایت کے ذریعے تاریخ میں قائم ہوئی۔ روحانی تہذیب کا لفظ ہم نے صرف اس لیے استعمال کیا ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قریب الفہم ہے۔
مادی تہذیب کا دھارا ایک دکھائی دینے والا دھارا (visible stream) ہے، اس لیے ہر آدمی اس سے واقف ہے۔ اس کے برعکس، روحانی تہذیب کا دھارا ایک نہ دکھائی دینے والا دھارا (invisible stream) ہے، اس لیے اُس کو صرف گہرے غور و فکر کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان یہ فرق ایسا ہی ہے جیسے ایک انسان کے وجود میں دو چیزوں کا فرق۔ انسانی وجود کا ایک پہلو اس کا مادی جسم ہے جو پوری طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس کے وجود کا دوسرا حصہ روح (soul) ہے جو کہ پوری طرح موجود ہوتی ہے، لیکن بظاہر وہ دکھائی نہیں دیتی۔
مادی تہذیب، مادی امکانات کو ان فولڈ کر کے وجود میں آتی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ مادی تہذیب اب سے تقریباً 6 ہزار سال پہلے میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں ابتدائی طور پر شروع ہوئی، پھر وہ ترقی کرتے کرتے موجودہ تکمیلی دور تک پہنچی۔
یہی معاملہ روحانی تہذیب یا اسپر پچول تہذیب کا ہے۔ روحانی تہذیب بھی کچھ امکانات کو انفولڈ کر کے وجود میں آتی ہے، لیکن دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ مادی تہذیب کا واقعہ اجتماع یا سوسائٹی کی سطح پر وجود میں آتا ہے۔ اس کے برعکس، روحانی تہذیب کا واقعہ ایک انفرادی واقعہ ہے اور وہ فرد
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues