ایک پیغمبرانہ پیشین گوئی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اُس وقت ضروری ہوتا ہے کہ ان حالات کے مقابلے میں اپنے موقف کو از سر نو متعین کیا جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ پوری مسلم دنیا، عرب سے عجم تک، ان حالات کو سمجھ نہ سکی۔ اس معاملے میں تقریباً تمام مسلمان ردِعمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے حصے میں نفرت اور منفی سوچ اور ٹکراؤ کے سوا اور کچھ نہیں آیا۔ جس کا آخری نتیجہ مایوسی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی طرف سے خودکش بم باری کے جو واقعات ہو رہے ہیں، وہ مایوسی کی اسی نفسیات کا نتیجہ ہیں۔ قدیم روایتی ذہن کی بنا پر مسلم رہنما نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ اس بنا پر وہ نئے حالات کے مقابلے میں اپنا مثبت موقف متعین نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نئے حالات نے مسلمانوں کے لیے ساری دنیا میں نئے مواقع کھول دیے تھے۔ یہ نئے مواقع خاص طور پر دو تھے— ایک، یہ کہ ان قوموں سے سائنس اور جدید ٹکنالوجی کو سیکھا جائے اور ان کے ذریعے اپنے ملکوں کو ترقی کے نئے دور میں پہنچایا جائے۔ موجودہ زمانے میں جاپان اس کی ایک مثال ہے۔ مگر مسلمان ایسا نہ کر سکے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ ان قوموں کو مدعو سمجھا جائے اور ان پر دعوت الی اللہ کا کام کیا جائے۔ مزید یہ کہ ان کی پیدا کردہ ٹکنالوجی اور ان کے لائے ہوئے کمیونیکیشن کو عالمی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر مسلمانوں کی عمومی بے شعوری کی بنا پر یہ کام بھی نہ ہوسکا۔ مسلمانوں کے حصے میں صرف یہ آیا کہ وہ ان قوموں کو دُشمن‘‘ سمجھیں اور ان کے خلاف ایک شکایتی گروہ بن کر رہ جائیں۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ واقعات کیوں پیش آئیں گے۔ اس کا سبب یہ ہوگا کہ اُس زمانے میں مسلمان اپنے دورِ زوال میں پہنچ چکے ہوں گے۔ حدیث میں اس کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ وہن ہے ۔ وہن کا لفظی مطلب ہے— ضعف (weakness)۔ یہی داخلی ضعف، نہ کہ کوئی خارجی سازش، اس صورتِ حال کا اصل سبب ہوگا۔ امت کے دورِ وہن کو دوسرے الفاظ میں امت کا دورِ زوال کہا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues