We sent Our messengers in succession.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۳
اپنی زندگی کی مادی تعمیر کرتا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے ارتقائی طور پر جو محسوس واقعہ ظہور میں آیا، اُسی کا نام مادی تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں سرگرمیوں کا دوسرا کلچر جو فرد کی سطح پر جاری رہا، وہی وہ واقعہ ہے جس کو ہم نے روحانی تہذیب کا نام دیا ہے۔ جس طرح مادی تہذیب کا تسلسل تاریخ میں برابر جاری رہا اور جس کا اشارہ قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود ہے، اِسی طرح روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل بھی تاریخ میں برابر جاری رہا۔ روحانی تہذیب کے تسلسل کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورہ المومنون کے ان الفاظ میں ملتا ہے: ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) یعنی پھر ہم نے لگاتار اپنے رسول بھیجے:
We sent Our messengers in succession.
خدا کے پیغمبر ہر دور میں مسلسل آتے رہے اور ان کی تعلیم و تلقین کے ذریعے تاریخ میں روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل قائم رہا۔ مادی تہذیب کا تسلسل اگر اجتماعی سطح پر دکھائی دینے والے مظاہر کی صورت میں قائم رہا تو روحانی تہذیب کا تسلسل افراد کے اندر غیر مرئی احوال کی صورت میں جاری رہا۔ برطانی مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975) نے 21 بڑی تہذیبوں کا مطالعہ کیا جن کی مدت تقریبا 5 ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مطالعے کے نتائج کو اس نے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے جو 12 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
Arnold Toynbee, The Study of History
مادی تہذیب کے بارے میں اس طرح کی کتابیں اور اس طرح کے مقالات بڑی تعداد میں شائع ہوئے ہیں، مادی تہذیب کے تاریخی آثار (monuments) زمین کے مختلف حصوں میں موجود ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کا اہم مرکز ہیں۔ مادی تہذیب کو پروجیکٹ کرنے کے لیے بڑے بڑے میوزیم بنائے گئے ہیں۔ بڑے بڑے ادارے، بڑی بڑی تنظیمیں اور بڑے بڑے شہر گویا اُن کے تعارفی مراکز ہیں۔ ان مراکز کو دیکھ کر لوگ کہہ پڑتے ہیں— ونڈرفل، ونڈرفل (wonderful, wonderful)- اسی طرح روحانی تہذیب کے واقعات بھی متوازی طور پر موجود ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے،
‹ Previous page Next page › Contents of September 2013 All issues